تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے-غزل

مانی عباسی — مئی 25، 2013 11:05 صبح
تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے
غزالِ دل وفا کے جال میں ہے
مرا ماضی ہے، میرے حال میں ہے
ملا بس درد ہی ہر سال میں ہے
تمہیں چلتا جو رک کے دیکھتا تھا
وہ مست اب مورنی کی چال میں ہے
ٹھکانہ جز جہنم کچھ نہ ہو گا
محبت نامۂ اعمال میں ہے
نوائے حسن میں ہے راگنی سی
نگہ سر میں اشارہ تال میں ہے
چلو مت اس ادا سے جی اٹھے گا
پہن کے جو کفن پاتال میں ہے
جھلک کشمیر کے سیبوں کی مانی
نظر آتی مجھے اک گال میں ہے .......
الف عین — مئی 26، 2013 9:03 صبح
اچھی غزل ہے، لیکن یہ پہلے پوسٹ نہیں ہو چکی!!
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 26، 2013 9:15 صبح
بہت عمدہ مانی عباسی بھائی ۔ بہت داد قبول فرمائیے۔
مانی عباسی — مئی 26، 2013 3:54 شام
اچھی غزل ہے، لیکن یہ پہلے پوسٹ نہیں ہو چکی!!

جی مگر اصلاح سخن م
یں​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%B9%D9%84%D9%85-%DB%81%DB%92-%DA%A9%D8%B3-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84.64231/