زیف سید — اگست 18، 2010 3:39 صبح
جگوں سے ترے در کے آگے کھڑا ہوں میں
اک دائمی پیاس لے کر
بجھی آس لے کر
مرے جلتے ماتھے کو
صندل ہتھیلی کی سوغات دے
میرے تن کے بیاباں کو
شبنم گلابوں کے باغات دے
میری چھاتی کے بنجر کو اکرام کی سبز برسات دے
شک کی سرحد پہ بھٹکے ہوئے کارواں کو
جرس کی صداؤں سے مسحور کر
روح کے تشنہ پیالے کو معمور کر
تیرہ آنگن کو جگ مگ چنبیلی سے پرنور کر
ایک موہوم سی بوند کو بے کراں کر
مری سُونی دہلیزکو اپنے درشن کی مدرا سے مخمور کر
خشک مٹی کی ڈھیری کو
اپنے مہکتے ہوئے لمس سے جاوداں کر
قیامت کے کہرام میں اک ٹھٹھرتی صدا
برف پاتال میں ٹمٹماتا دیا
تند صدیوں کے جھکڑ میں اڑتی ہوئی ایک دھجی
زمانے کے سیلاب میں ڈوبتی ڈوبتی زندگی
۔۔۔ کوئی تنکا عطا کر
عظیم اللہ قریشی — اگست 18، 2010 4:29 صبح
زیف سید صاحب بہت عمدہ جناب ایک جگہ پرمیرے خیال کے مطابق شائد آپ لفظ ت لکھنا بھول گئے ہیں
mfdarvesh — اگست 18، 2010 5:16 صبح
بہت خوب، شکریہ
محمود احمد غزنوی — اگست 18، 2010 6:24 صبح
بابا جی مدھرا شراب کو کہتے ہیں۔
فرخ منظور — اگست 18، 2010 10:30 صبح
زیف سید صاحب بہت عمدہ جناب ایک جگہ پرمیرے خیال کے مطابق شائد آپ لفظ ت لکھنا بھول گئے ہیں
یہ مدھرا بمعنی شراب ہے۔
زیف سید — اگست 18، 2010 4:23 شام
زیف سید صاحب بہت عمدہ جناب ایک جگہ پرمیرے خیال کے مطابق شائد آپ لفظ ت لکھنا بھول گئے ہیں
روحانی صاحب، میں ت لکھ تو دوں لیکن پھر فاتح بھائی قمچی لے کر آ جائیں گے کہ سطر “بحور“ سے خارج ہو گئی ہے

زیف
ابن سعید — اگست 18، 2010 4:59 شام
ہندی میں شراب کے لئے لفظ "مدھرا" نہیں بلکہ "مدِرا" استعمال کیا جاتا ہے م مفتوح اور د مکسور۔
الف عین — اگست 18، 2010 6:27 شام
اچھی نظم ہے زیف، مدِرا کا میں بھی لکھنے والا تھا مگر سعود نے وہی بات کہہ دی ہے، شکریہ سعود۔
البتہ اس مصرع کو دیکھیں
ایک قطرہء موہوم کو بے کراں کر
‘قطرائے‘ بحر میں آتا ہے۔
سید نصرت بخاری — اگست 30، 2010 4:06 صبح
بھائی !میرا خیال ہے کہ ’’جگوں‘‘کی بجائے کوئی اور مناسب لفظ لایا جائے تو تفہیم اور سلاست کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔’’سرحد پر‘‘بھی ایک ناخوش گوار احساس پیدا ہوتا پے۔اسے’’سرحد پہ ‘‘ہونا چاہیے۔نصرت بخاری
زیف سید — اگست 30، 2010 5:34 صبح
بھائی !میرا خیال ہے کہ ’’جگوں‘‘کی بجائے کوئی اور مناسب لفظ لایا جائے تو تفہیم اور سلاست کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔’’سرحد پر‘‘بھی ایک ناخوش گوار احساس پیدا ہوتا پے۔اسے’’سرحد پہ ‘‘ہونا چاہیے۔نصرت بخاری
جناب نصرت صاحب: نظم پڑھنے کا شکریہ۔ لمبے وقت کے دورانیے کے لیے ذاتی طور پر مجھے لفظ جُگ بہت پسند ہے۔ سادہ اور مختصر۔
“سرحد پر“ میں ٹائپو ہے جسے میں درست کر رہا ہوں۔
زیف
ایس فصیح ربانی — ستمبر 14، 2010 7:43 شام
بہت خوب،
بہت رواں اور بھرپور نظم پر داد قبول کیجیے۔
زیف سید — ستمبر 15، 2010 2:35 صبح
جناب ربانی صاحب: عزت افزائی کا بہت بہت شکریہ۔