تنہا سا ہوں بہت

عدیل احمد — جنوری 11، 2018 7:12 صبح
احباب سے التماس ہے اس پہ اپنا اپنا تبصرہ فرمائیں
غزل
تم نہیں سمجھے مرا غم آج بھی
رو رہے ہیں دیکھ لے ہم آج بھی
پاس میرے آکے اوجھل ہو گئے
ٹوٹتا ہے یہ مرا دم آج بھی
ہے پرانا درد بھی جو کیسے مٹے
ہو نہیں پایا ہے یہ کم آج بھی
جو ستم کرتے رہے ہنس کر سہا
سلسلہ جاتا نہیں تھام آج بھی
تم کہاں سمجھو گے حالے دل صنم
جان دل کی آنکھ ہے نم آج بھی
چل کہیں اب دور احمد ہم چلیں
تک رہا ہے ایک عالم آج بھی
ظہیراحمدظہیر — جنوری 22، 2018 7:58 شام
عدیل صاحب بزمِ سخن میں خوش آمدید!!
اچھی کاوش ہے ! ایک نظر املا پر بھی ڈال لیجئے !
ویسے بہتر ہوگا کہ آپ اصلاحِ سخن میں کلام پوسٹ کریں ۔ وہاں رہنمائی مل جائے گی ۔
Maha Ali Khan — جنوری 31، 2018 7:28 صبح
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
گھر,
Maha Ali Khan — جنوری 31، 2018 7:29 صبح
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
Maha Ali Khan — جنوری 31، 2018 7:30 صبح
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا
عدیل احمد — فروری 15، 2018 2:20 شام
واااااہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7-%D8%B3%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%A8%DB%81%D8%AA.99770/