تُو اپنی محبت کا اثر دیکھ لیا کر
جاتے ہوئے بس ایک نظر دیکھ لیا کر انسان پہ لازم ہے کہ وہ خود کو سنوارے
دھندلا ہی سہی آئینہ‘ پر دیکھ لیا کر حسرت بھری نظریں ترے چہرے پہ جمی ہیں
بھولے سے کبھی تُو بھی اِدھر دیکھ لیا کر رستے سے پلٹنے سے تو بہتر ہے مرے دوست!
چلتے ہوئے سامانِ سفر دیکھ لیا کر (عمران شناور)
تُو اپنی محبت کا اثر دیکھ لیا کر
جاتے ہوئے بس ایک نظر دیکھ لیا کر انسان پہ لازم ہے کہ وہ خود کو سنوارے
دھندلا ہی سہی آئینہ‘ پر دیکھ لیا کر حسرت بھری نظریں ترے چہرے پہ جمی ہیں
بھولے سے کبھی تُو بھی اِدھر دیکھ لیا کر رستے سے پلٹنے سے تو بہتر ہے مرے دوست!
چلتے ہوئے سامانِ سفر دیکھ لیا کر (عمران شناور)
بہت ہی سُندر غزل ہے جناب عمران شناور صاحب۔۔۔عمدہ بھئی۔
عمران شناور — جنوری 21، 2010 3:43 شام
بہت شکریہ کاشفی صاحب!
الف عین — جنوری 21، 2010 5:51 شام
واہ عمران، اچھی غزل ہے، پسند آئی۔
عمران شناور — جنوری 21، 2010 6:03 شام
بہت بہت شکریہ اعجاز صاحب!
ایم اے راجا — جنوری 21، 2010 9:42 شام
رستے سے پلٹنے سے تو بہتر ہے مرے دوست!
چلتے ہوئے سامانِ سفر دیکھ لیا کر واہ واہ عمران شناور صاحب بہت خوب اشعار کہے اگر مقط بھ ہو جاتا تو کیا بات تھی۔
عمران شناور — جنوری 22، 2010 6:05 صبح
بہت بہت شکریہ راجا صاحب! انشاء اللہ امید ہے غزل مکمل ہو جائے گی
آصف شفیع — جنوری 22، 2010 7:44 صبح
اچھے اشعار ہیں عمران صاحب!
عمران شناور — جنوری 22، 2010 7:48 صبح
شکریہ آصف شفیع صاحب!
عمران شناور — جنوری 29، 2010 7:36 صبح
آصف صاحب کہاں ہٰیںآج کل
عاطف مرزا — فروری 6، 2010 1:39 شام
شناور صاحب بہت ہی خوبصورت غزل عطاء کی ہے آپ نے۔ بہت سی داد حاضر ہے۔
مغزل — فروری 7، 2010 7:38 صبح
میجر عاطف مرزا، اردو محفل میں خوش آمدید، امید ہے آپ سے مراسلت کا شرف حاصل رہے گا، اگر آپ نے باقائدہ اپنا تعارف پیش نہیں کیا تو ’’ تعارف ‘‘ کی لڑی منتظر ہے ، مناسب خیال کیجے تو نعیم سمیر راج کو بھی اس جانب راغب کیجے ان کے لیے ابتداء میں اردو لکھنا مشکل ہے مگر وہ باآسانی یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں ۔ بہت شکریہ ،والسلام
عمران شناور — فروری 8، 2010 5:39 صبح
عاطف مرزا صاحب پسند فرمانے کے لیے شکریہ!
عمران شناور — فروری 8، 2010 5:41 صبح
محمود مغل صاحب! تھریڈ میں تشریف لانے کے لیے شکریہ!