تو نور تو میں دھنک ہوا ہوں ۔۔۔

بشارت گیلانی — جنوری 5، 2014 7:48 شام
خود میں جوتجھی کو پوجتا ہوں۔
تیرا ہی تو حرفِ مدعا ہوں۔
٭٭٭
تو نور تو میں دھنک ہوا ہوں۔
کیا میں کوئی تجھ سے دوسرا ہوں۔
٭٭٭
کثرت کے سراب میں گھرا ہوں۔
تو جانتا ہے میں جانتا ہوں۔
٭٭٭
اَبعاد ترے ہیں سب تو مالک۔
میں وقت میں کیوں بھٹک رہا ہوں۔
٭٭٭
خواہش کے طلسم میں نہ الجھا۔
میں تجھ سے تجھی کو مانگتا ہوں۔
٭٭٭
سب علم سرابِ آگہی ہے۔
تجھ کو میں کہاں سمجھ سکا ہوں۔
٭٭٭
تجھ کو جو سمجھ گیا تھا اس میں۔
تکمیل کی حد کو پا گیا ہوں۔
٭٭٭
مالک مرے جذب کا بھرم رکھ۔
میں تیری تلاش میں چلا ہوں۔
٭٭٭
خوشبو ہوں کہا تلک چلوں گا۔
آخر کو نوشتۂِ ہوا ہوں۔
٭٭٭
تو کل ہے میں ایک جزو تیرا۔
تیری ہی تو ایک انتہا ہوں۔
٭٭٭
یہ آن کہ تیرے دھیان کی ہے۔
اس آن تو میں بھی ما ورا ہوں۔
٭٭٭
تو جاگتا ہے میں تیرا شاعر۔
تیرے لئے خواب دیکھتا ہوں۔
بشارت گیلانی — جنوری 6، 2014 5:33 صبح
مطلع کو یوں پڑھئے:
خود میں بھی تجھی کو ڈھونڈھتا ہوں۔
تیرا ہی تو حرفِ مدعا ہوں۔
الف عین — جنوری 6، 2014 6:33 صبح
بہت خوب بشارت گیلانی۔
مالک مرے جذب کا بھرم رکھ
یہاں جذب سے کیا مراد ہے، جذبہ؟ دونوں الگ الگ الفاظ ہیں
بشارت گیلانی — جنوری 6، 2014 8:55 صبح
شدید خواہش کے معنوں میں کہا ہے۔ لگن، کشش۔
شوق بھی ہو سکتا ہے مگر جذب ذرا زیادہ شدید لگ رہا تھا۔ رائے سے نوازیئے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%88-%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DA%BE%D9%86%DA%A9-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DB%94%DB%94%DB%94.70920/