تُو تو شبنم کو بھی کانٹے پہ نچا دیتا ہے

عظیم اللہ قریشی — جولائی 7، 2010 1:02 شام
تیری کیا بات ہے کیا کھیل دکھا دیتا ہے
تُو تو شبنم کو بھی کانٹے پہ نچا دیتا ہے
اُس نے دل تم کو دیا ہے اسے دل میں رکھنا
چیزِ نایابِ زمانہ، بَھلا کوئی دیتا ہے
اپنے در پہ وہ اگر مجھ کو بٹھا دیتا ہے
دیکھتا ہوںیہ جہاں مجھ کو اٹھا دیتا ہے
دل میں احساس کی آواز وہ سن لیتا ہے
اونچی آواز سے کیوں اتنی صدا دیتا ہے
تو بھی اس آگ میں جلتا ہی رہے گا بابا
جا تجھے عظیم مستور دعا دیتا ہے
محمود احمد غزنوی — جولائی 7، 2010 1:12 شام
دل میں احساس کی آواز وہ سن لیتا ہے
اونچی آواز سے کیوں اتنی صدا دیتا ہے
الف عین — جولائی 9، 2010 1:58 شام
آپ کے لئے ایک سپیشل زمرے کی ضرورت ہے، یہ فورم پابند بحور شاعری کی ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%8F%D9%88-%D8%AA%D9%88-%D8%B4%D8%A8%D9%86%D9%85-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%B9%DB%92-%D9%BE%DB%81-%D9%86%DA%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.30523/