تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے

میم الف — جون 6، 2021 6:39 شام
کچھ تازہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:
تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے
بستر پہ ہم تو تھک گئے دن بھر پڑے پڑے
لے جائیں سوہنی کو جو دریا کے پار تک
ایسے بھی کوئی تم نے کمھارو! گھڑے گھڑے؟
اے نرم خو! یہ کیسا سمایا ہے جی میں شوق
ننھی سی اِن لوؤں میں یہ کانٹے بڑے بڑے
ہرچند ڈھیلا ڈھالا بہت ہو گیا مزاج
پر شعر اب بھی کہتا ہوں کیسے کڑے کڑے
تو نے مرصع سازی جو کی، کی مرصع ساز
ہم نے جو شاعری میں نگینے جڑے، جڑے
چھوٹے سے اِس دماغ میں اے شاعرانِ شہر
آتے کہاں سے ہیں یہ مضامیں بڑے بڑے
پرواز کر گئے قفسِ عنصری سے آہ
جیتے بھی تا کجا یونہی تن میں گڑے گڑے
باہر سے اُس نے صلح تو کر لی سماج سے
پھر عمر بھر جو خود سے مہا یدھ لڑے لڑے
اوّل بہار اُن کی خموشی سے چھا گئی
پھر گفتگو سے جو گلِ معنی جھڑے جھڑے
میم الف | جون ۲۰۲۱​
الف عین — جون 7، 2021 8:32 صبح
دلچسپ غزل ہے
میم الف — جون 7، 2021 9:57 صبح
بہت شکریہ استاد محترم :rose:
محمداحمد — جون 7، 2021 1:10 شام
واہ واہ واہ واہ!
بہت خوبصورت غزل ہے منیب بھائی!
بے حد پسند آئی!
ماشاء اللہ! اس شاہکار غزل پر بہت داد قبول کیجے۔ :)
محمداحمد — جون 7، 2021 1:12 شام
تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے
بستر پہ ہم تو تھک گئے دن بھر پڑے پڑے
واہ
لے جائیں سوہنی کو جو دریا کے پار تک
ایسے بھی کوئی تم نے کمھارو! گھڑے گھڑے؟
"گھڑے گھڑے" کیا خوب کہا ہے بھائی!
اے نرم خو! یہ کیسا سمایا ہے جی میں شوق
ننھی سی اِن لوؤں میں یہ کانٹے بڑے بڑے
واہ واہ
ہرچند ڈھیلا ڈھالا بہت ہو گیا مزاج
پر شعر اب بھی کہتا ہوں کیسے کڑے کڑے
واقعی
مزاج کیوں ڈھیلا ڈھالا ہوگیا بھلا؟ :)
تو نے مرصع سازی جو کی، کی مرصع ساز
ہم نے جو شاعری میں نگینے جڑے، جڑے
واہ! پہلا مصرع کیا خوب ہے
بہت خوب نگینے جڑے ہیں۔
چھوٹے سے اِس دماغ میں اے شاعرانِ شہر
آتے کہاں سے ہیں یہ مضامیں بڑے بڑے
واہ
باہر سے اُس نے صلح تو کر لی سماج سے
پھر عمر بھر جو خود سے مہا یدھ لڑے لڑے
کیا بات ہے!
مہا یدھ لڑنے کی بات خوب ہے۔ :)
اوّل بہار اُن کی خموشی سے چھا گئی
پھر گفتگو سے جو گلِ معنی جھڑے جھڑے
اللہ اللہ !
خامشی اور گفتگو دونوں ہی کی کیا بات ہے
کیا اچھی غزل ہے بھائی! مکرر مبارکباد :)
میم الف — جون 7، 2021 1:38 شام
واہ واہ واہ واہ!
بہت خوبصورت غزل ہے منیب بھائی!
بے حد پسند آئی!
ماشاء اللہ! اس شاہکار غزل پر بہت داد قبول کیجے۔ :)
واہ
"گھڑے گھڑے" کیا خوب کہا ہے بھائی!
واہ واہ
واقعی
مزاج کیوں ڈھیلا ڈھالا ہوگیا بھلا؟ :)
واہ! پہلا مصرع کیا خوب ہے
بہت خوب نگینے جڑے ہیں۔
واہ
کیا بات ہے!
مہا یدھ لڑنے کی بات خوب ہے۔ :)
اللہ اللہ !
خامشی اور گفتگو دونوں ہی کی کیا بات ہے
کیا اچھی غزل ہے بھائی! مکرر مبارکباد :)
بے حد شکرگزار ہوں محمداحمد بھائی
آپ کی حوصلہ افزائی سے جو توانائی اس پہ صرف ہوئی، وہ واپس مل گئی۔
یہ جو آپ نے مزاج کے ڈھیلے ڈھالے ہو جانے کے بارے میں پوچھا، اس کی تفصیل میں ہمیں منصب یک دو ہزاری ملنے کا امکان ہے کیونکہ کئی مراسلے لکھنے پڑیں لیکن جیسے سودا نے کہا، یہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا :)
ظہیراحمدظہیر — جون 9، 2021 4:09 صبح
بہت خوب! اچھی غزل ہے منیب!
غزل کی روایات سے ہٹ کر دلچسپ مضامین باندھے ہیں ۔ بقول خلیل بھائی مزیدار مزیدار!
مطلع کے مصرع اول میں کیوں کو یک حرفی باندھ دیا آپ نے ۔ اچھا نہیں لگ رہا ۔
مرصع سازی والے مصرع میں آپ نے دونوں جگہ مرصع کا عین گرادیا ۔ اس سے مجھے کوئی اختلاف نہیں لیکن سازی کی "ی" بہت بری طرح گر رہی ہے ۔ اسے سنبھالئے ۔ :)
میم الف — جون 9، 2021 4:28 صبح
بہت خوب! اچھی غزل ہے منیب!
غزل کی روایات سے ہٹ کر دلچسپ مضامین باندھے ہیں ۔ بقول خلیل بھائی مزیدار مزیدار!
مطلع کے مصرع اول میں کیوں کو یک حرفی باندھ دیا آپ نے ۔ اچھا نہیں لگ رہا ۔
مرصع سازی والے مصرع میں آپ نے دونوں جگہ مرصع کا عین گرادیا ۔ اس سے مجھے کوئی اختلاف نہیں لیکن سازی کی "ی" بہت بری طرح گر رہی ہے ۔ اسے سنبھالئے ۔ :)
بہت شکریہ استادِ محترم
بہت مفید تبصرہ فرمایا ہے آپ نے۔
ہم ی کو سنبھالتے ہیں۔
ی سے یاسر شاہ بنتا ہے۔
ہم انھیں بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کشٹ بھی اٹھا لیں۔
گزشتہ بار انھوں نے مطلعے میں مدد فرمائی تھی :)
محمد تابش صدیقی — جون 9، 2021 4:42 صبح
کچھ تازہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:
تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے
بستر پہ ہم تو تھک گئے دن بھر پڑے پڑے
لے جائیں سوہنی کو جو دریا کے پار تک
ایسے بھی کوئی تم نے کمھارو! گھڑے گھڑے؟
اے نرم خو! یہ کیسا سمایا ہے جی میں شوق
ننھی سی اِن لوؤں میں یہ کانٹے بڑے بڑے
ہرچند ڈھیلا ڈھالا بہت ہو گیا مزاج
پر شعر اب بھی کہتا ہوں کیسے کڑے کڑے
تو نے مرصع سازی جو کی، کی مرصع ساز
ہم نے جو شاعری میں نگینے جڑے، جڑے
چھوٹے سے اِس دماغ میں اے شاعرانِ شہر
آتے کہاں سے ہیں یہ مضامیں بڑے بڑے
پرواز کر گئے قفسِ عنصری سے آہ
جیتے بھی تا کجا یونہی تن میں گڑے گڑے
باہر سے اُس نے صلح تو کر لی سماج سے
پھر عمر بھر جو خود سے مہا یدھ لڑے لڑے
اوّل بہار اُن کی خموشی سے چھا گئی
پھر گفتگو سے جو گلِ معنی جھڑے جھڑے
میم الف | جون ۲۰۲۱​
خوب غزل ہے منیب بھائی۔ منفرد قوافی۔ اور منفرد مضامین۔
ظہیراحمدظہیر بھائی کیا یہاں بھی ذوالقافیتین کی صنعت استعمال ہوئی ہے۔ یعنی اس صورت میں جب دونوں قوافی ایک ہی ہوں؟
گُلِ یاسمیں — جون 9، 2021 5:27 صبح
بہت خوبصورت غزل۔ دلچسپ اندازِ بیاں۔
اور ڈھیلے ڈھالے مزاج کے تو کیا ہی کہنے۔
جیتے رہئیے اور یونہی لکھتے رہئیے مضامین کڑے کڑے اور بڑے بڑے۔
ظہیراحمدظہیر — جون 9، 2021 6:13 صبح
بہت شکریہ استادِ محترم
بہت مفید تبصرہ فرمایا ہے آپ نے۔
ہم ی کو سنبھالتے ہیں۔
ی سے یاسر شاہ بنتا ہے۔
ہم انھیں بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کشٹ بھی اٹھا لیں۔
گزشتہ بار انھوں نے مطلعے میں مدد فرمائی تھی :)
منیب ، دکھادی نا استادی آپ نے مجھے استادِ محتر م کہہ کر ! :)
بھائی میں اردو شعر و ادب کا ایک طالب علم ہوں ۔ یہ کہہ سکتے ہو کہ عمر اور تجربے میں آپ سے زیادہ ہوں لیکن جیسا کہ ہمیشہ کہتا آیا ہوں استادی میرا مقام نہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — جون 9، 2021 6:16 صبح
خوب غزل ہے منیب بھائی۔ منفرد قوافی۔ اور منفرد مضامین۔
ظہیراحمدظہیر بھائی کیا یہاں بھی ذوالقافیتین کی صنعت استعمال ہوئی ہے۔ یعنی اس صورت میں جب دونوں قوافی ایک ہی ہوں؟
جی تابش بھائی یہ ذو قافیتین کی صنعت ہے ۔ اسے قافیہء دوگانہ بھی کہتے ہیں ۔ اس میں دونوں قوافی کا مختلف ہونا شرط نہیں ۔ دونوں قوافی کا یکے بعد دیگرے آنا بھی شرط نہیں ۔ بعض شعرا نے اس طرح بھی کیا ہے کہ ایک قافیہ ردیف سے پہلے اور دوسرا ردیف کے بعد رکھا ہے ۔
میم الف — جون 9، 2021 10:44 صبح
خوب غزل ہے منیب بھائی۔ منفرد قوافی۔ اور منفرد مضامین۔
ظہیراحمدظہیر بھائی کیا یہاں بھی ذوالقافیتین کی صنعت استعمال ہوئی ہے۔ یعنی اس صورت میں جب دونوں قوافی ایک ہی ہوں؟
بہت شکریہ تابش بھائی :)
میم الف — جون 9، 2021 10:50 صبح
بہت خوبصورت غزل۔ دلچسپ اندازِ بیاں۔
اور ڈھیلے ڈھالے مزاج کے تو کیا ہی کہنے۔
جیتے رہئیے اور یونہی لکھتے رہئیے مضامین کڑے کڑے اور بڑے بڑے۔
بہت شکریہ جی
آپ کی دعائیں ہوں گی تو ان شاء اللہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھتے رہیں گے :)
میم الف — جون 9، 2021 11:31 صبح
منیب ، دکھادی نا استادی آپ نے مجھے استادِ محتر م کہہ کر ! :)
بھائی میں اردو شعر و ادب کا ایک طالب علم ہوں ۔ یہ کہہ سکتے ہو کہ عمر اور تجربے میں آپ سے زیادہ ہوں لیکن جیسا کہ ہمیشہ کہتا آیا ہوں استادی میرا مقام نہیں ۔
جی تابش بھائی یہ ذو قافیتین کی صنعت ہے ۔ اسے قافیہء دوگانہ بھی کہتے ہیں ۔ اس میں دونوں قوافی کا مختلف ہونا شرط نہیں ۔ دونوں قوافی کا یکے بعد دیگرے آنا بھی شرط نہیں ۔ بعض شعرا نے اس طرح بھی کیا ہے کہ ایک قافیہ ردیف سے پہلے اور دوسرا ردیف کے بعد رکھا ہے ۔
آپ کے مفید اور معلوماتی مراسلوں سے بہت کچھ جاننے کو ملتا ہے۔
جیسا کہ آپ نے ابھی ذو قافیتین کی تعریف بیان فرمائی۔
اس لیے آپ کو استاد محترم نہ بھی کہا جائے تو بھی آپ کے مراسلوں کی منفعت اساتذہ کرام کے مراسلوں جیسی ہی ہے۔
محمد شکیل خورشید — جون 9، 2021 2:15 شام
بہت ہی دلچسپ!
گھڑے بنانے کے معنوں میں گھڑے گھڑنا، پہلی دفعہ سنا، علم میں اضافہ ہوا
میم الف — جون 9، 2021 3:21 شام
بہت ہی دلچسپ!
گھڑے بنانے کے معنوں میں گھڑے گھڑنا، پہلی دفعہ سنا، علم میں اضافہ ہوا
بہت شکریہ شکیل صاحب :)
محمد عبدالرؤوف — جون 9، 2021 6:54 شام
بہت خوب، اچھی غزل ہے
اب اسے اپنی آواز میں بھی سنا دیں تو مزا دوبالا ہو جائے گا
میم الف — جون 10، 2021 3:45 صبح
بہت خوب، اچھی غزل ہے
اب اسے اپنی آواز میں بھی سنا دیں تو مزا دوبالا ہو جائے گا
جی ضرور، جلد اس کی ریکارڈنگ کروں گا، ان شا٫ اللہ
داد کے لیے تشکر :)
سیما علی — جون 10، 2021 5:24 صبح
بہت خوب ہم آپ سے اپنی آواز میں سنانے کی فرمائش ضرور کریں گے اور وہ بھی ترنم سے :):):):)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DA%BE%DA%A9%D8%AA%DB%92-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%DB%8C%DA%91-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92-%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%92.116526/