تیرا اک مسئلہ خوبصورت ہے تو

حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 12:55 شام
عشق مجازی والوں کی خدمت میں غزل .

میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے راحت ہے تو
اے مری زندگی ! میری الفت ہے تو
اے میری کیفیت تجھ کو کیا نام دوں
لوگ بتلاتے ہیں کہ محبت ہے تو
فلسفے ہیں مرے مسئلے ہیں مرے
تیرا اک مسئلہ خوبصورت ہے تو
سوچتا ہوں کبھی چھوڑ دوں میں تجھے
چھوڑ سکتا نہیں بیش قیمت ہے تو
بےوفا تو نہیں سنگدل ہے مگر
ہائے مجبور ہوں میری عادت ہے تو
تجھ سے کیسے کہوں اے مری جان جاں
تو مری زندگی ہے ضرورت ہے تو
میرے جوش جنوں کی تجھے کیا خبر
ایک بے جان پتھر کی مورت ہے تو
تیری فطرت میں ہیں شوخیاں مستیاں
تو ہے اک جل پری اک شرارت ہے تو
دسترس میں نہیں تو بڑی دور ہے
بس یہ احساس ہے میری چاہت ہے تو
حال دل سن کہ تو..، رودیا آج کیوں
کتنے برسوں کی تشنہ شکایت ہے تو
میرا مقصد نہیں تھا رلانا تجھے
تیرا کیا دوش ہے نیک فطرت ہے تو

حسیب احمد حسیب

راحیل فاروق — نومبر 7، 2016 1:04 شام
بہت خوب صورت، حسیب بھائی۔ داد قبول فرمائیے! :):):)
عشق مجازی والوں کی خدمت میں غزل .
یعنی ہم امیدیں پوری نہیں کر سکے؟ :LOL::LOL::LOL:
ویسے اچھا کیا جو اس طرف بھی نظر ڈالی جناب نے۔ بقولِ شاعر:
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
شغل بہتر ہے عشق بازی کا​
محمد تابش صدیقی — نومبر 7، 2016 1:04 شام
کیا کہنے حسیب بھائی. خوب غنائیت سے بھرپور غزل ہے.
اے میری کیفیت تجھ کو کیا نام دوں
لوگ بتلاتے ہیں کہ محبت ہے تو

فلسفے ہیں مرے مسئلے ہیں مرے
تیرا اک مسئلہ خوبصورت ہے تو
محمد تابش صدیقی — نومبر 7، 2016 1:05 شام
اگر آپ کی آواز میں ترنم کے ساتھ بھی ہو جائے تو کیا بات ہے. :)
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 1:05 شام
بہت خوب صورت، حسیب بھائی۔ داد قبول فرمائیے! :):):)
یعنی ہم امیدیں پوری نہیں کر سکے؟ :LOL::LOL::LOL:
ویسے اچھا کیا جو اس طرف بھی نظر ڈالی جناب نے۔ بقولِ شاعر:
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
شغل بہتر ہے عشق بازی کا​
کیا بازی گری ہے جناب
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 1:07 شام
اگر آپ کی آواز میں ترنم کے ساتھ بھی ہو جائے تو کیا بات ہے. :)
میاں وٹے پڑینگے
محمد تابش صدیقی — نومبر 7، 2016 1:08 شام
اجی تحت اللفظ ہی ہو جائے. ورنہ غزل تو ترنم کے لائق ہے. :)
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 1:09 شام
اجی تحت اللفظ ہی ہو جائے. ورنہ غزل تو ترنم کے لائق ہے. :)
اسکیلئے ملاقات ضروری ہے
محمد تابش صدیقی — نومبر 7، 2016 1:11 شام
اسکیلئے ملاقات ضروری ہے
اپریل میں کراچی کا ایک ہنگامی دورہ متوقع ہے. گنجائش نکالنے کی کوشش کروں گا. :)
محمد وارث — نومبر 7، 2016 1:15 شام
خوب غزل ہے حسیب صاحب، کیا کہنے۔
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 1:17 شام
خوب غزل ہے حسیب صاحب، کیا کہنے۔
اساتذہ کی تعریف ہمت بڑھا دیتی ہے ...
لاریب مرزا — نومبر 7، 2016 2:16 شام
واہ!! کیا خوب غزل کہی عشقِ مجازی والوں کی خدمت میں :)
سوچتا ہوں کبھی چھوڑ دوں میں تجھے
چھوڑ سکتا نہیں بیش قیمت ہے تو


تیری فطرت میں ہیں شوخیاں مستیاں
تو ہے اک جل پری اک شرارت ہے تو

دسترس میں نہیں تو بڑی دور ہے
بس یہ احساس ہے میری چاہت ہے تو

یہ تین اشعار تو کمال ہیں، بہت سی داد قبول کریں
محمداحمد — نومبر 7، 2016 2:26 شام
واہ واہ حسیب بھائی !
خوبصورت کلام۔۔۔!
اے مِری کیفیت تجھ کو کیا نام دوں
لوگ بتلاتے ہیں کہ محبت ہے تو

فلسفے ہیں مرے، مسئلے ہیں مرے
تیرا اک مسئلہ خوبصورت ہے تو

شاندار!
ملاقات پر سنوں گا یہ غزل :)
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 2:33 شام
واہ!! کیا خوب غزل کہی عشقِ مجازی والوں کی خدمت میں :)

یہ تین اشعار تو کمال ہیں، بہت سی داد قبول کریں

نوازش
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 2:34 شام
واہ واہ حسیب بھائی !
خوبصورت کلام۔۔۔!
شاندار!
ملاقات پر سنوں گا یہ غزل :)

آپ جیسے باکمال شاعر کی تعریف سر آنکھوں پر ..
ادب دوست — نومبر 7، 2016 3:42 شام
واہ واہ کیا کہنے حسیب بھائی واہ بہت خوب۔
لکھائی البتہ درست کیجئے، نستعلیق میں لکھیں تو پڑھنے میں آسانی ہوگی۔
حسیب احمد حسیب — نومبر 7، 2016 4:23 شام
واہ واہ کیا کہنے حسیب بھائی واہ بہت خوب۔
لکھائی البتہ درست کیجئے، نستعلیق میں لکھیں تو پڑھنے میں آسانی ہوگی۔
اب دیکھئے
ادب دوست — نومبر 7، 2016 4:25 شام
درست اب بہتر ہے۔
نوازش
فاخر رضا — نومبر 7، 2016 5:09 شام
کیا حقیقی کیا مجازی ، عشق تو عشق ہوتا ہے . خیر ، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے . دیر آید درست آید . ویسے آپ کچھ بھی کرلیں وہ بوئے حقیقی جاتی نہیں ہے .
ربیع م — نومبر 8، 2016 4:01 صبح
بہت خوب حسیب بھائی!
حال دل سن کہ تو..، رودیا آج کیوں
کتنے برسوں کی تشنہ شکایت ہے تو
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81-%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DB%81%DB%92-%D8%AA%D9%88.92905/