آصف شفیع — جون 25، 2014 8:18 صبح
غزل
تیری صورت کی بات کرتے ہیں
پھول فطرت کی بات کرتے ہیں
چھیڑیے اضطراب کا نغمہ
آج وحشت کی بات کرتے ہیں
سانس کو راستہ نہیں ملتا
آپ ہجرت کی بات کرتے ہیں!
ہم کو نفرت سے دیکھنے والو!
ہم محبت کی بات کرتے ہیں
اتنی تمہید کس لیے آصفؔ
بس ضرورت کی بات کرتے ہیں
محمد وارث — جون 26، 2014 6:40 صبح
کیا کہنے آصف صاحب، بہت خوب
عابی مکھنوی — جون 26، 2014 6:58 صبح
سانس کو راستہ نہیں ملتا
آپ ہجرت کی بات کرتے ہیں!
واہ ۔۔آصف صاحب کیا شعر دیا ہے۔۔۔ اور مقطع بھی اک قیامت ہے

اتنی تمہید کس لیے آصفؔ
بس ضرورت کی بات کرتے ہیں
محمداحمد — جون 26، 2014 7:01 صبح
واہ واہ واہ
بہت خوب آصف شفیع صاحب ۔۔۔۔!
سب اشعار ہی عمدہ ہیں۔
آصف شفیع — جون 26، 2014 9:54 صبح
کیا کہنے آصف صاحب، بہت خوب
محترم وارث صاحب!
حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ۔
آصف شفیع — جون 26، 2014 9:55 صبح
سانس کو راستہ نہیں ملتا
آپ ہجرت کی بات کرتے ہیں!
واہ ۔۔آصف صاحب کیا شعر دیا ہے۔۔۔ اور مقطع بھی اک قیامت ہے

اتنی تمہید کس لیے آصفؔ
بس ضرورت کی بات کرتے ہیں
بہت نوازش۔
آصف شفیع — جون 26، 2014 9:58 صبح
محمد احمد صاحب!
پذیرائی کیلیے ممنون ہوں۔
تلمیذ — جون 26، 2014 10:32 صبح
ہم کو نفرت سے دیکھنے والو!
ہم محبت کی بات کرتے ہیں
بہت اعلیٰ، ماشاءاللہ!