خرم بھائی ایک بات یاد رکھنے کی ہے اور وہ یہ کہ فکر بالکل بھی نہیں کرنی۔
میرے ساتھ خود اسطرح کا ایک واقعہ ہوا تھا، ایک غزل میں نے بڑے شوق اور لگن سی کہی اور وہ مجھے پسند بھی بہت تھی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ میں اسکی ردیف میں کچھ غلطی کر گیا تھا، اسکے بعد میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کو صحیح کروں لیکن قافیہ یا ردیف میں غلطی والی غزلوں کو صحیح کرنا ایک معانی رکھتا ہے، سو میں نے یہ سوچ کر اس غزل کی قربانی قبول کر لی کہ کیا ہوا اگر ایک غزل خراب ہو گئی ہے لیکن باقی ساری زندگی کیلیئے میں اس غلطی سے محفوظ تو ہو گیا۔

اس کا مطلب ہے مجھے بھی قربانی دینی پڑے گی
آپ کو فارسی کے مشہور شاعر عرفی شیرازی کی ایک بات بتاتا ہوں، اسکا 6،000 اشعار پر مشتمل دیوان کسی وجہ سے ضائع ہو گیا، یہ دیوان اسکی پوری زندگی کی شاعری تھی، اسے اسکا بہت زیادہ دکھ ہوا اور اسکے غم میں ایک دردناک غزل کہی، لیکن اسکی ہمت دیکھیئے اس غزل میں کہتا ہے
گفتہ گر شد ز کفم، شکر کہ نا گفتہ بجاست
از دو صد گنج یکے مشت گہر باختہ ام
اگر کہا ہوا ہاتھ سے چلا گیا ہے تو کیا فکر کہ نا کہا ہوا تو موجود ہے (پھر کہہ لوں گا) کہ میرے بیش بہا خزانے سے صرف ایک مٹھی بھر گوہر ہی گئے ہیں۔
آپ جوان آدمی ہیں، بس ہمت جمع رکھیں اور شاعری کرتے رہیں، ساری منزلیں آپ کی ہیں۔
والسلام
وارث بھائی میرا نام خرم ہے اور خرم کا مطلب تو آپ کو پتہ ہی ہے خوش رہنے والا میں بہت کم پرشان ہوتا ہے اگر ہوتا بھی ہوں تو پرشان نظر نہیں آتا
آپ نے آپنی بات سننائی اور پھر ایک شاعر صاحب کی بھی۔ اب آپ میری بات بھی سن لے
1999 کے دن تھے جب مجھے شاعری کا شوق ہوا 2003 تک میرے پاس کم از کم 200 سے زیادہ غزلیں تھی جو مجھ تو اچھی لگنی ہی تھی اس کے علاوہ میرے دوستوں کو بھی بہت پسند آئی سب دوستوں نے مجھے کہا کے اپنی کتاب شائع کر لو پھر میں اور میرے دوستو کتاب شائع کرنے کی کوشش کرنے لگے اس دوران مجھے ایک کتاب ملی جس میں علمِ عروض کا زکر تھا جو کے میرے پلے بلکل نہیں پڑا کام میں بھی مصروف رہتا تھا اس لے وقت بھی کم ہی ملتا تھا پھر ایک دن ایک شاعر حضرت صاحب سے ملاقات ہوئی جن کا کہنا تھا بیٹا یہ کام بہت مشکل ہے آپ اس کو چھوڑ دو پھر سفر کرتے کرتے مجھے ایک بزرگ نے مشورہ دیا بیٹا اس طرح اکیلے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا آپ کوئی ایسی جگہ تلاش کروں جہاں شعراء حضرات ہوں ان سے آپ سیکھ سکتے ہو پھر مجھے ایک ایسی جگہ مل گی جہاں بہت سارے شعراء حضرات تھے لیکن ان میں صرف ایک صاحب ہی علمِ عروض جانتے تھے ان کے پاس گیا اور علمِ عروض کے بارے میں پوچھا اور انھوں نے کچھ بتا نا شروع کیا جب کچھ تھوڑی بہت سمجھ آنا شروع ہو گی تو پھر پتہ چلا کے میری پہلے والی ساری غزلیں علمِ عروض یعنی وزن سے پاک ہیں

تو پھر مجھے ان 200 غزلوں کی قربانی دینی پڑی یہ تو پھر ایک غزل ہے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا اگر ہو گی تو ٹھیک ورنہ شہید تو ہو جائے گی نا ہاہاہا

آخر میں آپ کا شکریہ ادا کروں گا کے آپ نے میری بہت حوصلہ افزائی کی شکریہ جناب شکریہ پھر ملے گے اگلی غزل آنے تک

اس امید کے ساتھ کے اس سے بھی اچھی رائے دے گے شکریہ