تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔۔

محمود احمد غزنوی — فروری 13، 2010 12:01 شام
تیز ہوا کچھ کہتی ہے​
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کان لگا کر سنیں تو سمجھیں
کیا سرگوشی کرتی ہے۔۔ ۔ ۔
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جنگل صحرا ندی کنارے
سورج چاند زمیں اور تارے
سات سمندر دریا سارے
ان سے باتیں کرتی ہے
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔۔۔​
بُوٹے سن کر جھوم رہے ہیں
وجد میں گویا جھوم رہے ہین
پتّے شاخ کو چُوم رہے ہیں۔ ۔
ڈال پہ قمری چہکی ہے۔ ۔ ۔
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔۔ ۔
بادل ٹُوٹ کے برس گیا ہے
برس برس کر بکھر گیا ہے
سب کچھ کتنا نکھر گیا ہے
کچّی مٹّی مہکی ہے۔ ۔ ۔ ۔
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔​
کیا جانیں کیا راز ہے اس میں
خاموشی آواز ہے اس میں۔ ۔
دل سا ساز گداز ہے اس میں
دھڑکن گُونجتی رہتی ہے۔ ۔ ۔
تیز ہوا کچھ کہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ّ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B2-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94%DB%94.28506/