مہدی نقوی حجاز — جون 6، 2013 4:47 شام
کیا غضب کا نشاط باقی ہے
تیری آنکھوں کے جھٹپٹے میں آج
جشن رندان کیوں نہ ہو برپا
تیری نظروں کے مےکدے میں آج
ہم نے ڈھونڈا تو مل نہیں پائے
دست و پا اس سنم کدے میں آج
حجازؔ
محمداحمد — جون 8، 2013 7:08 صبح
کیا غضب کا نشاط باقی ہے
تیری آنکھوں کے جھٹپٹے میں آج
واہ کیا بات ہے مہدی بھائی۔۔۔۔! آنکھوں کے جھٹپٹے کی ترکیب بہت اعلیٰ ہے۔
باباجی — جون 8، 2013 7:32 صبح
بہت خوب
کیا غضب کا نشاط باقی ہے
تیری آنکھوں کے جھٹپٹے میں آج
"آنکھوں کے جھٹپٹے" نے لطف دیدیا
مہدی نقوی حجاز — جون 8، 2013 9:26 صبح
کیا غضب کا نشاط باقی ہے
تیری آنکھوں کے جھٹپٹے میں آج
واہ کیا بات ہے مہدی بھائی۔۔۔ ۔! آنکھوں کے جھٹپٹے کی ترکیب بہت اعلیٰ ہے۔
بہت شکریہ محترم بھائی۔
آداب۔
مہدی نقوی حجاز — جون 8، 2013 9:26 صبح
بہت خوب
کیا غضب کا نشاط باقی ہے
تیری آنکھوں کے جھٹپٹے میں آج
"آنکھوں کے جھٹپٹے" نے لطف دیدیا
باعث مسرت ہے کے آپ کا پسندیدہ واقع ہوا۔
شکریہ!
الف عین — جون 8، 2013 8:28 شام
اچھے اشعار ہیں۔ لیکن۔۔۔۔ مجھے خاموش رہنا مشکل ہے!!
پہلے شعر میں سوال اٹھتا ہے، کہ باقی کیوں ہے، کیا ختم ہو جانا چاہئے تھا اور نہیں ہوا۔
دوسے شعر۔ زندان فارسی اعتبار ے درست ہے، لیکن اردو میں نہ جانے کیوں برتا نہیں جاتا۔ محض زنداں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی مے کدہ آنکھوں کا ہوتا ہے، نظروں کا نہیں۔ نظریں اور آنکھیں ہم معنی نہیں ہیں۔
تیسرا شعر معنویت کے اعتبار سے سوال اٹھاتا ہے۔ دست و پا کہاں کھو گئے؟؟
پہلے دونوں شعر ویسے خیال کے حساب سے خوب ہیں۔
مہدی نقوی حجاز — جون 9، 2013 7:36 صبح
اچھے اشعار ہیں۔ لیکن۔۔۔ ۔ مجھے خاموش رہنا مشکل ہے!!
پہلے شعر میں سوال اٹھتا ہے، کہ باقی کیوں ہے، کیا ختم ہو جانا چاہئے تھا اور نہیں ہوا۔
دوسے شعر۔ زندان فارسی اعتبار ے درست ہے، لیکن اردو میں نہ جانے کیوں برتا نہیں جاتا۔ محض زنداں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی مے کدہ آنکھوں کا ہوتا ہے، نظروں کا نہیں۔ نظریں اور آنکھیں ہم معنی نہیں ہیں۔
تیسرا شعر معنویت کے اعتبار سے سوال اٹھاتا ہے۔ دست و پا کہاں کھو گئے؟؟
پہلے دونوں شعر ویسے خیال کے حساب سے خوب ہیں۔
پہلا شعر:
آپ کی بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے، اسے تبدیل کرنے کے بارے سوچنا پڑے گا!
دوسرا شعر:
جسے حضور زندان تصور کر رہے ہیں وہ محض رنداں ہے،
تیسرا شعر:
فارسی محاورہ: دست و پا گم کردن: اردو کا وہی ہاتھ پیر پھول جانا، اس سنم کدے میں میرے ہاتھ پیر پھول گئے ۔۔ اس طرح کا کچھ معنی ہے۔ قصد صرف ترجمہِ محاورہِ فارسی ہے!
الف عین — جون 9، 2013 8:47 صبح
معذرت کہ مفہوم کے اعتبار سے رندان سمجھا لیکن لکھتے وقت زندان لکھ گیا۔ لیکن اس صورت میں بھی میرا اعتراض جائز ہے۔ خاص کر اضافت کے بعد فصیح تر نون غنہ کے ساتھ ہوتا ہے۔
فارسی محاورہ اردو شاعری میں استعمال کرنے سے بچو تو بہتر ہے۔
مہدی نقوی حجاز — جون 9، 2013 8:49 صبح
معذرت کہ مفہوم کے اعتبار سے رندان سمجھا لیکن لکھتے وقت زندان لکھ گیا۔ لیکن اس صورت میں بھی میرا اعتراض جائز ہے۔ خاص کر اضافت کے بعد فصیح تر نون غنہ کے ساتھ ہوتا ہے۔
فارسی محاورہ اردو شاعری میں استعمال کرنے سے بچو تو بہتر ہے۔
جی جو حکم محترم۔
لیکن بدیع میں تو ترجمہِ محاورہ فارسی کو پوری ایک صنف مانا جاتا ہے،!