تین درویش

نوید رزاق بٹ — دسمبر 29، 2013 5:16 شام
تین درویش صحرا میں آگ کے گِرد بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں۔


(پہلا)
امیری آزمائش
فقیری آزمائش
اسیرِ زندگی تُو
اسیری آزمائش

(دوسرا)
محبت بیقراری
تمنا بیقراری
خلیلی امتحاں ہے
کلیمی آزمائش

(تیسرا)
توجہ آزمائش
حقارت آزمائش
نگاہِ یار کی ہر
شرارت آزمائش

(پہلا)
مکاں و لا مکاں میں
صدائے حق ھُوْ ہے
وہی ہے درمیاں اور
وہی جو چار سُو ہے

(دوسرا)
وہی زادِ سفر ہے
وہی بانگِ سَحَر ہے
وہی ہے رہنما اور
اُسی کی جستجو ہے

(تیسرا)
نہیں محبوب اُس بِن
نہیں مطلوب اُس بِن
وہی دل کی تڑپ اور
وہی رازِ سُکوں ہے

(نوید رزاق بٹ)​
محمد علم اللہ — دسمبر 29، 2013 5:42 شام
واہ سبحان للہ
کیا بات ہے
کمال کے اشعار بھیا جی کمال کے ۔۔۔ڈھیروں داد قبول کیجئے
نایاب — دسمبر 29، 2013 5:45 شام
بہت خوب
ڈھیروں دعاؤں بھری داد
محمود احمد غزنوی — دسمبر 29، 2013 5:53 شام
واہ بہت خوب۔۔۔ایک سالک، ایک مجذوب اور ایک عاشق۔
محمد وارث — دسمبر 30، 2013 5:38 صبح
خوب نظم ہے جناب۔
اور چوتھا درویش شاید یہ سب کچھ تحریر کر رہا تھا :)
نوید رزاق بٹ — دسمبر 30، 2013 11:57 صبح
تمام احباب کا بے حد شکریہ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D9%86-%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4.70652/