جا مرے جملہ خطوں کو بھی جلا دے جا کر

نوشین فاطمہ عبدالحق — مئی 4، 2017 10:43 صبح
دیدنی ہے مری فرحت پہ یہ دائم تو نہیں
جا مرے عشق کو غمگین بنا دے جا کر
مطمئن تو دل ناشاد نہیں وصل سے بھی
اس سے بہتر ہے ہمیں بس تو دعا دے جا کر
یہ یقیں تھا کہ مرا عشق تجھے روکےگا
مجھ کو تو میری ہی نظروں سے گرا دے جا کر
تجھ کو ہر یاد سے آزاد کیے دیتی ہوں
جا مرے جملہ خطوں کو بھی جلا دے جا کر
وصل کی رات مجھے ہجر کے خواب آتے رہے
تیری مرضی ! تو انھیں سانچ بنا دے جا کر
تجھ سے کچھ عرصہ مرا دل تو بسایا نہ گیا
جا کسی اور کا آنگن ہی بسا دے جا کر
بس مجھے خوف خدا تھا جو تجھے جانے دیا
میرے ناکردہ گناہوں کو دعا دے جا کر ۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 4، 2017 10:46 صبح
وصل کی رات مجھے ہجر کے خواب آتے رہے
تیری مرضی ! تو انھیں سانچ بنا دے جا کر
ماشاءاللہ ۔بہت عمدہ اور زبردست غزل۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — مئی 4، 2017 10:52 صبح
تجھ سے کچھ عرصہ مرا دل تو بسایا نہ گیا
جا کسی اور کا آنگن ہی بسا دے جا کر
واہ !خوبصورت شعر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A7-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%AC%D9%85%D9%84%DB%81-%D8%AE%D8%B7%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D9%84%D8%A7-%D8%AF%DB%92-%D8%AC%D8%A7-%DA%A9%D8%B1.96211/