جانے چمک اٹھا ہے، کیوں ہم نورد میرا

محمد عبدالرؤوف — جولائی 20، 2025 7:56 شام
جانے چمک اٹھا ہے، کیوں ہم نورد میرا
جس دم ہوا ہے غم سے، رخ زرد زرد میرا
اُس شخص سے بچاؤں کیسے مکانِ دل کو
جس سے ملا ہوا ہے ہر گھر کا فرد میرا
اک پاسِ عاشقی سے چپ ہے زبان میری
دیتا ہے گو دہائی ہر درد درد میرا
یہ عشق کا ہے حاصل، اے رہ نوردِ الفت
کپڑے پھٹے پھٹے سے، سر گرد گرد میرا
اس درجے میرے لب سے، نکلیں ہیں سرد آہیں
یکسر ہی پڑ گیا ہے، دل سرد سرد میرا
اس کو سناؤں بھی تو میں داستانِ غم کیا
کچھ جانتا نہیں جو بے درد، درد میرا
عبدالقیوم چوہدری — جولائی 20، 2025 7:58 شام
بہت خوب جی۔
مریم افتخار — جولائی 20، 2025 7:59 شام
معجزات ہو رہے ہیں!
عبدالقیوم چوہدری — جولائی 20، 2025 8:00 شام
شاید ٹیسٹ ٹرائل تھا ۔۔ اصل بندش رستے میں ہو گی۔
مریم افتخار — جولائی 20، 2025 8:01 شام
شاید ٹیسٹ ٹرائل تھا ۔۔ اصل بندش رستے میں ہو گی۔
کھیڈ کھیڈ وچ سَٹ ڈونگی وج گئی۔ 😆
محمد عبدالرؤوف — جولائی 20، 2025 8:19 شام
چلو اک بار پھر سے اجنبی ہو جائیں ہم سب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%86%D9%85%DA%A9-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DB%81%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%B1%D8%AF-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7.121803/