جانے کیا اس میں بھید بھاؤ ہے- نئی غزل

محمد شکیل خورشید — جون 9، 2021 12:56 شام
ان کے لہجے میں جو رچاؤ ہے
جانے کیا اس میں بھید بھاؤ ہے
یہ نگر کھوکھلا ہے اندر سے
ظاہری سب یہ رکھ رکھاؤ ہے
تھک گیا ہوں سفر کی محنت سے
ڈالنا اب کہیں پڑاؤ ہے
ٹوٹ جائے نہ ایک دن یہ ڈور
اتنا سانسوں میں کیوں تناؤ ہے
دل میں اس کی حسین یادوں کا
اک دہکتا ہوا الاؤ ہے
یہ جو اک بے کلی سی دل میں ہے
لگ رہا ہے کہ چل چلاؤ ہے
زندگی ساری اس کے نام شکیل
کب محبت میں بھاؤ تاؤ ہے
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر احباب و اساتذہ کی نذر
الف عین — جون 10، 2021 8:00 صبح
ویسے تو میں 'ؤ' پر ختم ہونے والے قوافی صرف یک حرفی پسند کرتا ہوں، بھاؤ پر وزن فاع، فعلن نہیں۔ لیکن جب پوری غزل میں یہی قوافی ہوں تو چل بھی سکتا ہے۔
مطلع ہی واضح نہیں، بقیہ اشعار تو درست لگ رہے ہیں
بھید بھاؤ کا مطلب ہوتا ہے تفرقہ یا تعصب، شاید تم نے کچھ اور سمجھا ہے!
محمد شکیل خورشید — جون 10، 2021 9:25 صبح
ویسے تو میں 'ؤ' پر ختم ہونے والے قوافی صرف یک حرفی پسند کرتا ہوں، بھاؤ پر وزن فاع، فعلن نہیں۔ لیکن جب پوری غزل میں یہی قوافی ہوں تو چل بھی سکتا ہے۔
مطلع ہی واضح نہیں، بقیہ اشعار تو درست لگ رہے ہیں
بھید بھاؤ کا مطلب ہوتا ہے تفرقہ یا تعصب، شاید تم نے کچھ اور سمجھا ہے!
جی یہی چوک ہوئی میں نے پہیلی، چھپی ہوئی بات کے معنوں میں سمجھا تھا، جو شائد صرف بھید کا مفہوم ہے
تبدیل کرتا ہوں
محمد شکیل خورشید — جون 10، 2021 10:18 صبح
ویسے تو میں 'ؤ' پر ختم ہونے والے قوافی صرف یک حرفی پسند کرتا ہوں، بھاؤ پر وزن فاع، فعلن نہیں۔ لیکن جب پوری غزل میں یہی قوافی ہوں تو چل بھی سکتا ہے۔
مطلع ہی واضح نہیں، بقیہ اشعار تو درست لگ رہے ہیں
بھید بھاؤ کا مطلب ہوتا ہے تفرقہ یا تعصب، شاید تم نے کچھ اور سمجھا ہے!

سر آپ کی رہنمائی کے مطابق یوں بدل دیا ہے، ایک اضافی مطلع کے ساتھ
ان کے لہجے میں جو رچاؤ ہے
کیا کہیں ہم سے کیا لگاؤ ہے
آنکھ پرنم، دلوں پہ گھاؤ ہے
کیوں زمانے میں بھید بھاؤ ہے
یہ نگر کھوکھلا ہے اندر سے
ظاہری سب یہ رکھ رکھاؤ ہے
ٹوٹ جائے نہ ایک دن یہ ڈور
اتنا سانسوں میں کیوں تناؤ ہے
یہ جو اک بے کلی سی دل میں ہے
لگ رہا ہے کہ چل چلاؤ ہے
تھک گیا ہوں سفر کی محنت سے
ڈالنا اب کہیں پڑاؤ ہے
دل میں اس کی حسین یادوں کا
اک دہکتا ہوا الاؤ ہے
زندگی ساری اس کے نام شکیل
کب محبت میں بھاؤ تاؤ ہے
الف عین — جون 11، 2021 10:53 صبح
اب درست ہے یہ غزل
ایس ایس ساگر — جون 11، 2021 11:08 صبح
عمدہ غزل ہے سر۔ ماشاءاللہ۔
داد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ۔
سیما علی — جون 11، 2021 11:46 صبح
دل میں اس کی حسین یادوں کا
اک دہکتا ہوا الاؤ ہے
زندگی ساری اس کے نام شکیل
کب محبت میں بھاؤ تاؤ ہے
ماشاء اللّہ بہت بہترین بھیا
داد و تحسین قبول فرمائیے !!!؟؟
محمد شکیل خورشید — جون 11، 2021 12:01 شام
شکریہ استادِ محترم
محمد شکیل خورشید — جون 11، 2021 12:02 شام
عمدہ غزل ہے سر۔ ماشاءاللہ۔
داد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ۔
شکریہ جناب
محمد شکیل خورشید — جون 11، 2021 12:02 شام
ماشاء اللّہ بہت بہترین بھیا
داد و تحسین قبول فرمائیے !!!؟؟
شکریہ بہن
ظہیراحمدظہیر — جون 24، 2021 4:06 صبح
جی یہی چوک ہوئی میں نے پہیلی، چھپی ہوئی بات کے معنوں میں سمجھا تھا، جو شائد صرف بھید کا مفہوم ہے
تبدیل کرتا ہوں
آپ نے ٹھیک سمجھا ۔ بھید بھاؤ بمعنی راز یا پوشیدہ بات عام مستعمل ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ استادِ محترم کے علاقے میں اِن معنوں میں استعمال نہ کیا جاتا ہو ۔
فہد اشرف — جون 24، 2021 5:52 صبح
آپ نے ٹھیک سمجھا ۔ بھید بھاؤ بمعنی راز یا پوشیدہ بات عام مستعمل ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ استادِ محترم کے علاقے میں اِن معنوں میں استعمال نہ کیا جاتا ہو ۔
پچھلے کچھ دنوں سے مجھے انتظار حسین کے افسانوں کی چاٹ لگی ہوئی ہے۔ ان کے یہاں بھی بھید بھاؤ بمعنی راز و اسرار کے پڑھ کے مجھے تھوڑی حیرت ہوئی تھی کہ بھید بھاؤ تو تفرقہ اور امتیاز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، انتظار حسین جنہیں ہندی و ہندوستانی کلچر کی اچھی سمجھ تھی وہ ایسا کیوں لکھیں گے۔ پھر تھوڑا سوچنے کے بعد یہ سمجھ میں آیا کہ شاید بھید اور بھاؤ الگ الگ استعمال ہوئے ہیں، یعنی بھید بمعنی اسرار اور بھاؤ بمعنی جذبات وغیرہ کے۔
وہ جملہ یہاں نقل کر رہا ہوں۔
"میں نے پراکرتی کے بھید جانے، پر ناری کے بھید بھاؤ نہیں جانے۔"
(پتے)
سید عاطف علی — جون 24، 2021 6:04 صبح
میرا خیال ہے بھید بھاؤ تعصب وغیرہ کے معنی رکھتا ہے ۔
الف عین — جون 24، 2021 7:17 صبح
بھید بھاؤ شاید پاکستان کے کچھ علاقوں میں اسرار و رموز کی طرح غلط استعمال کیا جاتا ہو، اور اسی استعمال کو سنتے سنتے انتظار حسین مرحوم بھی انہیں معنوں میں لکھ گئے ہوں، ورنہ بھید بھاؤ پورا مرکب ہی تفرقہ اور تعصب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی شعری اسناد بھی مل جائیں پاکستانی شاعری میں!
محمد شکیل خورشید — جون 24، 2021 11:15 صبح
بھید بھاؤ شاید پاکستان کے کچھ علاقوں میں اسرار و رموز کی طرح غلط استعمال کیا جاتا ہو، اور اسی استعمال کو سنتے سنتے انتظار حسین مرحوم بھی انہیں معنوں میں لکھ گئے ہوں، ورنہ بھید بھاؤ پورا مرکب ہی تفرقہ اور تعصب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی شعری اسناد بھی مل جائیں پاکستانی شاعری میں!
استادِ محترم ! ہم تو رشتے نبھانے والے ہیں، آپ کو استاد مان لیا تو پھر کیا پاکستان کیا بھارت، بس مان لیا۔ دوسرا آپ کی اصلاح سے ایک اضافی شعر مل گیا۔
باقی اس گفتگو سے یہ تسلی ہو گئی کہ میری اردو بس یہی کچھ مرحوم انتظار حسین جتنی ہی بری ہے۔ :)
اپنی کم علمی سے بخوبی واقف ہوں، یونہی جملہ ذہن میں آیا تو جڑ دیا، ناگوار گزرا ہو تو معافی کا خواستگار ہوں
ظہیراحمدظہیر — جون 24، 2021 8:50 شام
بھید بھاؤ شاید پاکستان کے کچھ علاقوں میں اسرار و رموز کی طرح غلط استعمال کیا جاتا ہو، اور اسی استعمال کو سنتے سنتے انتظار حسین مرحوم بھی انہیں معنوں میں لکھ گئے ہوں، ورنہ بھید بھاؤ پورا مرکب ہی تفرقہ اور تعصب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی شعری اسناد بھی مل جائیں پاکستانی شاعری میں!
اعجاز بھائی ، ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ انتظار حسین نے اسے بالکل درست استعمال کیا ہے ۔ کسی لفظ کے ایک سے زیادہ معانی ہونا تو عام بات ہے ۔ ان معانی کو غلط کس طرح کہا جاسکتا ہے ۔ بھید بھا ؤ تفرقہ اور تمیز کے علاوہ راز اور پوشیدہ بات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بھید بھاؤ کا اصل معنی تو راز ہی ہے ۔ تفرقہ اور امتیاز کے معانی میں تو بہت بعد میں استعمال ہونا شروع ہوا ۔ بھید بھاؤ کم از کم ۲۷۰ سال پہلے بمعنی راز استعمال ہوا اور "قصۂ مہروز و دلبر" میں ملتا ہے ۔ میں اس کتاب کا عکس ذیل میں لگا رہا ہوں ۔ یہ قصہ اردو کی قدیم ترین کہانیوں میں سے ایک ہے ۔ بلکہ ڈاکٹر مسعود حسین خان (سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن) کی تحقیق کے مطابق یہ قصہ شاید اردو کا اولین ناولٹ ہے ۔ یہ قصہ مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دور میں ۱۷۳۲ سے ۱۷۵۹ کے درمیان عیسوی خان بہادر نے لکھا تھا جس کا اب صرف ایک قلمی مسودہ باقی بچا ہے اور حیدرآباد دکن میں ہے ۔ اسی قلمی نسخے کی مدد سے یہ کتاب پہلی دفعہ ۱۹۱۱ میں مخزن پریس دہلی سے طبع ہوئی تھی ۔ اس کا عکس ذیل میں دیکھ لیجئے ۔
الف عین
ظہیراحمدظہیر — جون 24، 2021 8:51 شام
قصۂ مہر افروز و دلبر کا عکس
Qissa Mehroz — Postimages

سرورق اور صفحہ ۳ کی تصاویر
ظہیراحمدظہیر — جون 24، 2021 8:58 شام
پچھلے کچھ دنوں سے مجھے انتظار حسین کے افسانوں کی چاٹ لگی ہوئی ہے۔ ان کے یہاں بھی بھید بھاؤ بمعنی راز و اسرار کے پڑھ کے مجھے تھوڑی حیرت ہوئی تھی کہ بھید بھاؤ تو تفرقہ اور امتیاز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، انتظار حسین جنہیں ہندی و ہندوستانی کلچر کی اچھی سمجھ تھی وہ ایسا کیوں لکھیں گے۔ پھر تھوڑا سوچنے کے بعد یہ سمجھ میں آیا کہ شاید بھید اور بھاؤ الگ الگ استعمال ہوئے ہیں، یعنی بھید بمعنی اسرار اور بھاؤ بمعنی جذبات وغیرہ کے۔
وہ جملہ یہاں نقل کر رہا ہوں۔
"میں نے پراکرتی کے بھید جانے، پر ناری کے بھید بھاؤ نہیں جانے۔"
(پتے)
فہد اشرف بھائی ، اوپر مراسلہ نمبر ۱۶ اور ۱۷ کو دیکھ لیجئے ۔ آپ کو اپنے اشکال کا جواب مل جائے گا۔ :)
بھید بھاؤ کھلنا ایک عام محاورہ ہے اور اس کے معنی ہے راز کا کھلنا یا کسی پوشیدہ بات کا ظاہر ہونا ۔
جاسمن — جون 25، 2021 2:28 صبح
خوبصورت غزل۔
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D8%B3-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A4-%DB%81%DB%92-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.116569/