جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا۔ تازہ غزل ۔ منصور آفاق

منصور آفاق — اگست 27، 2013 11:38 شام

جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا
اک نئی کائنات سے گزرا
ہاتھ میں لالٹین لے کے میں
جبر کی کالی رات سے گزرا
آتی جاتی ہوئی کہانی میں
کیا کہوں کتنے ہاتھ سے گزرا
موت کی دلکشی زیادہ ہے
میں مقامِ ثبات سے گزرا
جستہ جستہ دلِ تباہ مرا
جسم کی نفسیات سے گزرا
لمحہ بھر ہی وہاں رہا لیکن
میں بڑے واقعات سے گزرا
لفظ میرا تر ے تعاقب میں
حوضِ آبِ حیات سے گزرا
ایک تُو ہی نہیں ہے غم کا سبب
دل کئی حادثات سے گزرا
یہ بھیِ انکار کی تجلی ہے
ذہن لات و منات سے گزرا
دستِ اقبال تھام کر منصور
کعبہ و سومنات سے گزرا
دل عجب احتیاط سے گزرا
ضبط کے پل صراط سے گزرا
وہ عجب کہ تراشنے کے بعد
ایک سو دس قراط سے گزرا
کائناتیں عظیم ہیں لیکن
میں محیط و محاط سے گزرا
چل پڑی ساتھ موت جب بھی میں
زندگی کی بساط سے گزرا
میں نہ یکتا ہوا خدا کی طرح
نہ کسی اختلاط سے گزرا
اک الف بس بنانے میں منصور
بے کے کتنے نقاط سے گزرا
ق
نور کی پتیوں کی بارش میں
دل شبِ انبساط سے گزرا
پھول سے قمقمے تھے پانی میں
جب میں نہرِ نشاط سے گزرا
اک مراکش بھرے بدن کے ساتھ
رنگ شہرِرباط سے گزرا
کیسے وہم و قیاس سے گزرا
خواب میں بھی ہراس سے گزرا
ہرعمارت بہار بستہ ہے
کون چیرنگ کراس سے گزرا
رات اک کم سخن بدن کے میں
لہجہ ئ پُر سپاس سے گزرا
پھر بھی صرفِ نظر کیا اس نے
میں کئی بار پاس سے گزرا
رو پڑی داستاں گلے لگ کر
جب میں دیوانِ خاص سے گزرا
عمر بھر عشق ،حسن والوں کی
صبحتِ ناشناس سے گزرا
کیا کتابِ وفا تھی میں جس کے
ایک ہی اقتباس سے گزرا
مثلِ دریا ہزاروں بار بدن
اک سمندر کی پیاس سے گزرا
ہجر کے خارزار میں منصور
وصل کی التماس سے گزرا
غدیر زھرا — اگست 28، 2013 1:00 صبح
کیا کہنے----لاجواب----
الشفاء — اگست 28، 2013 6:10 صبح
جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا
اک نئی کائنات سے گزرا
لمحہ بھر ہی وہاں رہا لیکن
میں بڑے واقعات سے گزرا
واہ۔ بہت خوب کہا ہے۔۔۔
بھلکڑ — اگست 28، 2013 6:33 صبح
بہت خوب!!! لاجواب!!!!
عمر سیف — اگست 28، 2013 6:41 صبح
واہ
ہاتھ میں لالٹین لے کے میں
جبر کی کالی رات سے گزرا
منصور آفاق — اگست 29، 2013 3:33 صبح
دیوان منصور
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 29، 2013 3:38 صبح
بہت عمدہ سائیٹ بنارہے ہیں جناب۔ داد قبول فرمائیے
ماہی احمد — اگست 29، 2013 3:44 صبح
بہت خوب۔
نایاب — اگست 31، 2013 6:54 شام
سحرانگیز ،،،،،،،،،،،،،، بلاشبہ
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 31، 2013 7:01 شام
اک الف بس بنانے میں منصور
بے کے کتنے نقاط سے گزرا
بہت عمدہ جناب۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ واہ۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 31، 2013 7:04 شام
بہت زبردست جناب۔۔۔
طاھر جاوید — ستمبر 2، 2013 10:30 صبح
ہجر کے خارزار میں منصور
وصل کی التماس سے گزرا
واہ جی واہ
محمد حفیظ الرحمٰن — ستمبر 5، 2013 10:43 صبح
جناب منصور صاحب۔ آپ نے کسر نفسی سے کام لیا ہے۔ یہ ایک نہیں بلکہ تین غزلیں ہیں اور بہت خوب ہیں۔ ہاتھ میں لالٹین لے کے میں کو اگر تبدیل کر کے لے کے قندیل اپنے ہاتھوں میں کر دیں تو کیسا رہے۔ یہ صرف ایک رائے ہے جسے قبول کرنا بالکل ضروری نہیں۔
مدیحہ گیلانی — ستمبر 9، 2013 4:41 شام
واہ واہ ! لاجواب
ڈھیروں داد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B4%D9%81%D9%90-%D8%B0%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7%DB%94-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82.67195/