جب سے دل کی آگ بجھی ہے

عظیم — مئی 25، 2021 8:39 صبح
غزل
جب سے دل کی آگ بجھی ہے
زندگی اپنی پھیکی سی ہے
جس کی دوری کا ہے رونا
اپنے دل کے پاس وہی ہے
جان بھی جائے اس کی خاطر
جان بھی آخر اس کی دی ہے
کیا کیا کھیل تماشے ہوں گے
دیکھنے کو اک عمر پڑی ہے
رکھے جیسے حال میں چاہے
یہ اس پیارے کی مرضی ہے
کاش یہ آنکھیں پھر سے بھیگیں
سنگ دلی کی حد کر دی ہے
*****​
یاسر شاہ — مئی 27، 2021 2:09 صبح
جب سے دل کی آگ بجھی ہے
زندگی اپنی پھیکی سی ہے
جس کی دوری کا ہے رونا
اپنے دل کے پاس وہی ہے
جان بھی جائے اس کی خاطر
جان بھی آخر اس کی دی ہے
خوب۔ ماشاء اللہ ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
آپ کو دوبارہ یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔:)
عظیم — مئی 27، 2021 6:54 صبح
خوب۔ ماشاء اللہ ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
آپ کو دوبارہ یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔:)
جزاک اللہ خیر
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 27، 2021 8:46 صبح
اچھی غزل ہے عظیم بھائی ۔۔۔
جان بھی جائے اس کی خاطر
جان بھی آخر اس کی دی ہے
ہاں بس اس شعر سے ذہن لامحالہ غالب کے شعر طرف جاتا ہے
ع۔ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
عظیم — مئی 27، 2021 9:15 صبح
اچھی غزل ہے عظیم بھائی ۔۔۔
ہاں بس اس شعر سے ذہن لامحالہ غالب کے شعر طرف جاتا ہے
ع۔ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
بہت شکریہ آپ کا۔
غالب کے شعر کی طرف ذہن جانا ممکن ہے، لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا
وسیم — مئی 27، 2021 3:14 شام
اچھی غزل ہے۔ لیکن اس میں وہ جو ایکس فیکٹر ہوتا ہے نا، اس کی کمی ہے۔۔۔
(یہ صرف میری رائے ہے، تنقید نا سمجھ لیجیے گا)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%DA%AF-%D8%A8%D8%AC%DA%BE%DB%8C-%DB%81%DB%92.116368/