جب سے میرے یار دشمن ہو گئے (عمران شناور)

عمران شناور — جون 20، 2009 6:07 صبح
جب سے میرے یار دشمن ہو گئے
یہ در و دیوار دشمن ہو گئے
ہو گئی خاموشیوں سے دوستی
صاحبِ گفتار دشمن ہو گئے
پھوٹ کر رونے لگا کِھلتا گلاب
ساتھ پل کر‘ خار دشمن ہو گئے
آخرت کی فکر کرنے والوں کے
یونہی دنیا دار دشمن ہو گئے
دیکھ کر خوشحال اک کم بخت کو
سب کے سب بیمار دشمن ہو گئے
اس کہانی کو بدلنا تھا مجھے
جس کے سب کردار دشمن ہو گئے
غیر تو ہیں‌غیر ان کی چھوڑئیے
آپ بھی سرکار دشمن ہو گئے
(عمران شناور)‪
محمد امین — جون 26، 2009 2:39 شام
ارے زبردست بھائی۔۔۔ بہت خوب۔
پھوٹ کر رونے لگا کِھلتا گلاب
ساتھ پل کر‘ خار دشمن ہو گئے
آخرت کی فکر کرنے والوں کے
یونہی دنیا دار دشمن ہو گئے
ان دو کا تو جواب ہی نہیں۔۔۔
خرم شہزاد خرم — جون 26، 2009 2:54 شام
بہت خوب بہت پیاری غزل ہے
محمد وارث — جون 26، 2009 6:21 شام
خوبصورت غزل ہے عمران صاحب، لاجواب!
عمران شناور — جون 27، 2009 12:12 شام
محمد امین صاحب
خرم شہزاد خرم صاحب
محمد وارث صاحب
آپ تینوں کا بہت شکریہ۔
ویسے میں آج اس غزل کو حذف کرنے والا تھا۔ میرا خیال تھا‘ کسی کو پسند نہیں آئی تبھی تو رائے نہیں دی۔ ایک ہفتہ سے۔
محمد امین — جون 27، 2009 12:37 شام
اجی حضور ایسی بھی کیا بد دلی؟ نظر سے نہیں گذرا ہوگا یہ دھاگہ کسی کی۔۔۔ یوں بھی حذف کرنا اپنے حوصلے کو گرانے کے مترادف ہوتا۔۔۔
الف عین — جون 27، 2009 5:57 شام
معذرت عمران کہ میں نے یہ ابھی دیکھی ہے، نہ جانے کیوں سرچ میں یہ آئی ہی نہیں۔ بہر حال اچھی غزل ہے، لیکن اس کا تو شاید تم کو ہی احساس ہو گا کہ اس پائے کی نہیں جس کی تمہاری اکثر غزلیں ہوتی ہیں۔ میں لگی لپٹی نہیں رکھتا صاف کہہ دیتا ہوں، وہسے دو تین شعر واقعی اچھے ہیں۔
آصف شفیع — جون 28، 2009 9:17 صبح
عمران! یہ صرف پریکٹس غزل ہے۔
کاشفی — جون 28، 2009 9:28 صبح
بہت خوب بھائی۔۔۔بہت ہی خوب۔۔۔
شاہ حسین — جون 29، 2009 7:58 صبح
بہت خوب جناب عمران صاحب عمدہ غزل ہے ۔
مغزل — جون 29، 2009 8:31 صبح
عمرا ن شناور صاحب، ماشا اللہ۔
اس کہانی کو بدلنا تھا مجھے
جس کے سب کردار دشمن ہو گئے
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
عمران شناور — جون 29، 2009 10:33 صبح
معذرت عمران کہ میں نے یہ ابھی دیکھی ہے، نہ جانے کیوں سرچ میں یہ آئی ہی نہیں۔ بہر حال اچھی غزل ہے، لیکن اس کا تو شاید تم کو ہی احساس ہو گا کہ اس پائے کی نہیں جس کی تمہاری اکثر غزلیں ہوتی ہیں۔ میں لگی لپٹی نہیں رکھتا صاف کہہ دیتا ہوں، وہسے دو تین شعر واقعی اچھے ہیں۔

بہت شکریہ اعجاز صاحب۔ آپ نے اسے اچھی غزل کہا۔
آپ نے بالکل درست فرمایا مجھے احساس ہے لیکن ایک دوست کو پسند تھی اسی کے کہنے پر شیئر کی تھی رائے حاصل کرنے کے لیے
آصف شفیع صاحب آپ کا بھی شکریہ۔ واقعی پریکٹس غزل ہے۔
وہی کھلاڑی کارکردگی دکھاتا ہے جو پریکٹس کرکے میدان مین اترتا ہے۔
تمام احباب کا رائے دینے کے لیے بہت بہت شکریہ۔
آصف شفیع — جون 30، 2009 2:17 شام
آصف شفیع صاحب آپ کا بھی شکریہ۔ واقعی پریکٹس غزل ہے۔
وہی کھلاڑی کارکردگی دکھاتا ہے جو پریکٹس کرکے میدان مین اترتا ہے۔
بہت خوب۔ ۔ ۔ ۔ ! کہا آپ نے
عمران شناور — جولائی 3، 2009 11:56 صبح
آصف شفیع صاحب آپ کا بھی شکریہ۔ واقعی پریکٹس غزل ہے۔
وہی کھلاڑی کارکردگی دکھاتا ہے جو پریکٹس کرکے میدان مین اترتا ہے۔
بہت خوب۔ ۔ ۔ ۔ ! کہا آپ نے

بہت شکریہ آصف صاحب!
ایم اے راجا — جولائی 5، 2009 7:29 صبح
بہت خوب لاجواب غزل ہے، دل کی بات شاید نوکِ قلم آ گئی، واہ واہ
عمران شناور — جولائی 7، 2009 9:05 صبح
بہت خوب لاجواب غزل ہے، دل کی بات شاید نوکِ قلم آ گئی، واہ واہ

بہت شکریہ ایم اے راجا صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%88%D8%B1.22976/