ش زاد — دسمبر 3، 2008 9:24 شام
جب مرے زخم مرا اپنا مقدر نکلے
کیوں مرا درد مرے جسم سے باہر نکلے
حاکِمِ وقت کی آنکھوں میں جب ضیاء نہ رہی
لوگ چہروں پہ سجائے ہوئے منظر نکلے
کِتنے مخلص تھے مری ذات سے ارمان مرے
جو مرے جسم سے اک جان ہی لے کر نکلے
میرے الفاظ مری سوچ کے سانچے میں ڈھلے
میرے اشعار مری ذات کے پیکر نکلے
میرے اشکوں نے ڈبویا ہے ھمیشہ مُجھ کو
یہ تیری یاد ! کہ قطرے بھی سمندر نکلے
ش زاد
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:06 صبح
وارث بھائی صرف شکریہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آپ کی رائے درکار ہے
حضور ُ کا یوں خاموش رہنا ناانصافی ہے میرے اور میرے کلام کے ساتھھ
مغزل — دسمبر 4، 2008 8:24 صبح
بہت خوب شین زاد ۔۔
آپ نے تو ہلہ بول دیا ہے ۔
واہ ۔۔ بہت اچھی غزل ہے واہ
داد نہ دینا ناانصافی ہوگی
والسلام
الف نظامی — دسمبر 4، 2008 8:27 صبح
میرے اشکوں نے ڈبویا ہے ھمیشہ مُجھ کو
یہ تیری یاد ! کہ قطرے بھی سمندر نکلے
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:27 صبح
بہت خوب شین زاد ۔۔
آپ نے تو ہلہ بول دیا ہے ۔
واہ ۔۔ بہت اچھی غزل ہے واہ
داد نہ دینا ناانصافی ہوگی
والسلام
آداب عرض ہے محمود بھائی
بہت بہت نوازش شکریہ کرم
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:29 صبح
میرے اشکوں نے ڈبویا ہے ھمیشہ مُجھ کو
یہ تیری یاد ! کہ قطرے بھی سمندر نکلے
بہت شکریہ بھائی نظامی
آپ کو شعر پسند آیا ہمیں یقین ہو گیا ہمارا فن رئیگاں نہیں ہے
آپ خوش رہیں
محمد وارث — دسمبر 4، 2008 10:44 صبح
بہت اچھے اشعار ہیں شہزاد صاحب، لا جواب۔اس شعر کا مصرع اولٰی مجھے بے وزن لگ رہا ہے، آپ کا کیا خیال ہے!
حاکِمِ وقت کی آنکھوں میں جب ضیاء نہ رہی
لوگ چہروں پہ سجائے ہوئے منظر نکلے
الف عین — دسمبر 4، 2008 5:13 شام
غزل اچھی ہے شہزاد بس وہی شعر کھٹک رہا ہے،
لیکن ضیاء کا لفظ بھی کھٹک رہا ہے. اس کو یوں کر دیں
حاکم وقت کی آنکھوں میں چمک جب نہ رہی
ویسے ’جب ضیاء‘ کی بجائے ’ضیا جب۔ بھی کیا جا سکتا ہے،
ش زاد — دسمبر 4، 2008 11:48 شام
جب مرے زخم مرا اپنا مقدر نکلے
کیوں مرا درد مرے جسم سے باہر نکلے
حاکِمِ وقت کی آنکھوں میں چمک جب نہ رہی
لوگ چہروں پہ سجائے ہوئے منظر نکلے
کِتنے مخلص تھے مری ذات سے ارمان مرے
جو مرے جسم سے اک جان ہی لے کر نکلے
میرے الفاظ مری سوچ کے سانچے میں ڈھلے
میرے اشعار مری ذات کے پیکر نکلے
میرے اشکوں نے ڈبویا ہے ھمیشہ مُجھ کو
یہ تیری یاد ! کہ قطرے بھی سمندر نکلے
ش زاد
ش زاد — دسمبر 5، 2008 12:05 صبح
غزل اچھی ہے شہزاد بس وہی شعر کھٹک رہا ہے،
لیکن ضیاء کا لفظ بھی کھٹک رہا ہے. اس کو یوں کر دیں
حاکم وقت کی آنکھوں میں چمک جب نہ رہی
ویسے ’جب ضیاء‘ کی بجائے ’ضیا جب۔ بھی کیا جا سکتا ہے،
بہت بہت شکریہ اعجاذ صاحب
مصرع ٹھیک کر دیا ہے آپ کا ممنون ہوں
آداب عرض ہے
فرخ منظور — دسمبر 5، 2008 8:39 صبح
بہت اچھی غزل ہے ش زاد صاحب!
ش زاد — دسمبر 5، 2008 9:46 صبح
بہت اچھی غزل ہے ش زاد صاحب!
آداب عرض ہے فرخ بھائی
الف عین — دسمبر 5، 2008 2:39 شام
شکریہ شہزاد میری بات کو اہمیت دینے کا۔
ش زاد — دسمبر 5، 2008 4:23 شام
شکریہ شہزاد میری بات کو اہمیت دینے کا۔
خوش آمدید اعجاز صاحب
