جبراً ہم اپنی کھال میں ہی بھر دیے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل

ش زاد — دسمبر 13، 2008 11:34 صبح
جبراً ہم اپنی کھال میں ہی بھر دیے گئے
اس پر ستم ہزار ہمیں سر دیے گئے
کیسے تھے لوگ جن کے اُفق بھر دیے گئے
اور ہم کو ساحلوں کے سمندر دیے گئے
آنکھیں جو گُھورتی تھیں سبھی نوچ لی گئیں
اُٹھتے ہوئے جو سر تھے قلم کر دیے گئے
بستے ، قلم ، کِتاب کہاں ہو سکے نصیب
بچوں کو کھیلنے کے لیے در دیے گئے
آنکھوں سے عُمر بھر کے لیے نُور چھین کر
نظارگی کے واسطے منظر دیے گئے
ش زاد
مغزل — دسمبر 13، 2008 12:57 شام
واہ بہت خوب ۔۔ کیا کہنے ہیں شین زاد
کیا ہی اعلی کلام ہے واہ ۔
سدا سلامت رہو ۔۔
والسلام
ابن سعید — دسمبر 13، 2008 1:05 شام
مطلع اور بستے قلم کتاب والےاشعار نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔
دوسرے شعر کا واضح مطلب نہیں نکال سکا بس قیاساً کچھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
برادرم آپ اپنا مجموعہ کلام مکمل یہاں کی لائبریری میں کب تک شامل کر رہے ہیں؟ (اگر کاپی رائٹ فری ہو)
الف عین — دسمبر 13، 2008 3:41 شام
میں بھی یہی کہنے والا تھا۔۔۔ لگتا ہے کہ ان کی کوئی کتاب چھپ چکی ہے۔
یہ غزل تو واقعی بہت اچھی ہے۔
ش زاد — دسمبر 13، 2008 3:44 شام
واہ بہت خوب ۔۔ کیا کہنے ہیں شین زاد
کیا ہی اعلی کلام ہے واہ ۔
سدا سلامت رہو ۔۔
والسلام
بہت بہت نوازش محمود بھائی
مکی — دسمبر 13، 2008 3:57 شام
قیامت خیز غزل ہے.. پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں کہ اعجاز صاحب نے کوئی نقطہ معترضہ نہیں نکالا.. :)
ش زاد — دسمبر 13، 2008 3:58 شام
مطلع اور بستے قلم کتاب والےاشعار نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔
دوسرے شعر کا واضح مطلب نہیں نکال سکا بس قیاساً کچھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
برادرم آپ اپنا مجموعہ کلام مکمل یہاں کی لائبریری میں کب تک شامل کر رہے ہیں؟ (اگر کاپی رائٹ فری ہو)

حضور ابھی تو ظفلِ مکتب ہوں یہ کارستانیاں اس قابل کہاں کہ انھیں ریختہ کریں
""" کاپی رائٹ""" کس چڑیا کا نام ہے؟؟؟
میں نے اپنی کارستانیاں یہاں پیش کر تو دی ہیں اور جو باقی ہیں وہ بھی کر تا رہوں گا
ش زاد — دسمبر 13، 2008 4:06 شام
قیامت خیز غزل ہے.. پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں کہ اعجاز صاحب نے کوئی نقطہ معترضہ نہیں نکالا.. :)
:):)بہت نوازش حضور
الف عین — دسمبر 13، 2008 4:21 شام
یار مکی نے تو بد نام کر دیا۔۔۔ جیسے میں اعتراض برائے اعتراض کرتا ہوں۔۔۔
ش زاد — دسمبر 13، 2008 7:29 شام
یار مکی نے تو بد نام کر دیا۔۔۔ جیسے میں اعتراض برائے اعتراض کرتا ہوں۔۔۔
نہیں حضور ایسا نہیں ہے آپ کے اعتراضات تو ہمیں سیکھنے کے موقع فراہم کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اس غزل کی تعریف کرنا چاھتے تھے اس لیے انھوں نے ایسا کہا مُجھے تو ایسا ہی لگتا ہے
ش زاد — دسمبر 13، 2008 7:37 شام
قیامت خیز غزل ہے.. پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں کہ اعجاز صاحب نے کوئی نقطہ معترضہ نہیں نکالا.. :)
نوازش بھائی مکی
یہ اُن کا حسنِ ذوق ہے کہ اُنھوں نے غزل کو سراہا اور آپ کا بھی
آپ سب کا ممنون ہوں:hatoff:
مکی — دسمبر 13، 2008 10:33 شام
یار مکی نے تو بد نام کر دیا۔۔۔ جیسے میں اعتراض برائے اعتراض کرتا ہوں۔۔۔

اعجاز صاحب میری کیا مجال کہ میں آپ پر کوئی الزام دھروں میں تو شاعری کی ابجد سے بھی واقف نہیں.. بس سن کر واہ واہ کرنے والے لوگوں میں سے ہوں.. غزل اچھی تھی اور پہلی دفعہ دیکھا کہ آپ کی نظر میں اس میں کسی اصلاح کی ضرورت نہیں تھی سو کہہ دیا مطلب نہیں کچھ سے کہ مطلب ہی برآوے..
دل آزاری ہوئی ہو تو معافی کا خواستگار ہوں.. آپ ہمارے بزرگ ہیں اور آپ کا احترام ہم پر ہر حال میں واجب ہے..
الف عین — دسمبر 14، 2008 3:56 شام
نہیں مکی۔۔ میں نے تو یوں ہی مذاق میں کہہ دیا تھا۔۔ تم نے تو محض ایک حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ برا مان گئے ہو تو معذرت۔۔
مکی — دسمبر 14، 2008 4:02 شام
نہیں مکی۔۔ میں نے تو یوں ہی مذاق میں کہہ دیا تھا۔۔ تم نے تو محض ایک حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ برا مان گئے ہو تو معذرت۔۔

میری مجال جو آپ کی بات کا برا مانوں.. میں سمجھا شاید آپ برا مان گئے.. :mrgreen: خیر رفع دفع کریں اور موقع کی مناسبت سے یہ شعر ملاحظہ کریں:
میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں
دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی!!
ب وقوف — دسمبر 14، 2008 9:37 شام
جناب، کہتے ہیں کہ شاعر سے اس کے کلام کا مطلب نہیں ہوچھنا چاہیے،
آپ کے کلام کو پڑھ کر اس بات پر ایمان آگیا
ش زاد — دسمبر 15، 2008 12:07 شام
جناب، کہتے ہیں کہ شاعر سے اس کے کلام کا مطلب نہیں ہوچھنا چاہیے،
آپ کے کلام کو پڑھ کر اس بات پر ایمان آگیا
آداب عرض ہے:hatoff::hatoff::hatoff:
ش زاد — فروری 9، 2009 5:43 شام
اے کاش میرے پاؤں میں کانٹے ہی اُگ رہیں
اور یہ زمین آبلہ بن جائے تو بنے
ش زاد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%8B-%DB%81%D9%85-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DB%92-%DA%AF%D8%A6%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84.17313/