جتایا شوق میں دنیا سے اپنا پن کیسا

محمد رضا سلیم — دسمبر 4، 2009 9:22 صبح
جتایا شوق میں دنیا سے اپنا پن کیسا
رہا ہمیش اِسی دہر میں مگن کیسا
ہزار روپ ترے کس کا ذکر ہم چھیڑیں
بدلنا بھیس ترا تھا کمال فن کیسا
ترے تھے جو وہی تیری یہ شان کہنے لگے
بنا تھا نیک مگر نکلا بد چلن کیسا
وہ دن خمار کے وہ لطف و کیف کی راتیں
اُجڑ گیا ہے ترا 'وہ' ہرا چمن کیسا
کہا تھا تُجھ سے نہ قیمت لگایا کر اپنی
بِکا ہے خاک کے بھائو ترا بدن کیسا
سفید ہو گیا آخر ترا سیاہ بدن
لباس پیارا لگے تُجھ پہ یہ کفن کیسا
رضا وہ کیا ہوئی تیری کمائی دنیا کی
"جہاں نے لوٹ لیا تیرا سارا دھن, کیسا"
محمد وارث — دسمبر 5، 2009 10:20 صبح
اچھی غزل ہے رضا صاحب۔
مطلع میں 'ہمیش' لکھنے کی کوئی خاص وجہ تھی کیا؟ ہمیشہ میں بھی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا؟
عمران شناور — دسمبر 5، 2009 10:59 صبح
بہت اچھی غزل ہے۔ شیئر کرنے کے لیے شکریہ
الف عین — دسمبر 5، 2009 1:21 شام
اچھی غزل تو ہے لیکن لہجہ کچھ اکھڑا اکھڑا سا ہے یا شاید مجھے ہی لگا۔ روانی کی کمی لگی مجھے۔
فرخ منظور — دسمبر 6، 2009 9:49 صبح
اچھی غزل ہے سلیم صاحب! بہت داد قبول ہو۔ وارث صاحب کی بات قابلِ توجہ ہے۔ :)
محمد رضا سلیم — دسمبر 7، 2009 10:30 صبح
اچھی غزل ہے رضا صاحب۔
مطلع میں 'ہمیش' لکھنے کی کوئی خاص وجہ تھی کیا؟ ہمیشہ میں بھی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا؟

روانی میں تھوڑآ‌ فرق پڑنے کا خیال گزرا اس لئیے میں نے ہمیشہ کی 'ہ' گرا دی۔
رہنمائی اور تعریف کا شکریہ وارث‌ صاحب۔
محمد رضا سلیم — دسمبر 7، 2009 10:30 صبح
بہت اچھی غزل ہے۔ شیئر کرنے کے لیے شکریہ

شکریہ عمران صاحب
محمد رضا سلیم — دسمبر 7، 2009 10:36 صبح
اچھی غزل تو ہے لیکن لہجہ کچھ اکھڑا اکھڑا سا ہے یا شاید مجھے ہی لگا۔ روانی کی کمی لگی مجھے۔

ہاں‌ جی آپ کو ہی لگا لہجہ اکھڑا اکھڑا، ایسی کوئی بات نہین تھی،
اور پسندیدگی کا شکریہ اعجاز صاحب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%AA%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D8%B4%D9%88%D9%82-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7-%D9%BE%D9%86-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7.26967/