جس خاک سے بنے تھے ہم اُس خاک پر گرے

ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 5:26 شام
جس خاک سے بنے تھے ہم اُس خاک پر گرے
شاخِ شجر سے ٹوٹ کے جیسے ثمر گرے
سونپی ہیں راہِ شوق نے وہ وہ امانتیں
کاندھوں سے رہ نورد کے زادِ سفر گرے
آیا ہے کس کا نام یہ نوکِ قلم پر آج
کاغذ پر آکے سینکڑوں شمس و قمر گرے
خاشاک بن گئے ہیں ہواؤں کے ہاتھ میں
اپنی جڑوں سے ٹوٹ کے جتنے شجر گرے
گھر ٹوٹنے کا سانحہ عریاں سا کرگیا
جامے گرے بدن سے کہ دیوار و در گرے
پرچم نہیں ہے ، ورثہء اسلاف ہے ظہیر
پرچم گرا تو جانیئے پُرکھوں کے سر گرے
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔ اگست ۲۰۰۶
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 5:29 شام
فاتح محمد تابش صدیقی کاشف اختر سید عاطف علی
فاتح — جنوری 27، 2016 5:43 شام
واہ واہ واہ کیا کہنے ظہیر بھائی۔ آخری دو اشعار تو جان ہیں غزل کی
محمد تابش صدیقی — جنوری 27، 2016 5:44 شام
خاشاک بن گئے ہیں ہواؤں کے ہاتھ میں
اپنی جڑوں سے ٹوٹ کے جتنے شجر گرے
واہ، بہت عمدہ
یوسف سلطان — جنوری 28، 2016 1:24 صبح
پرچم نہیں ہے ، ورثہء اسلاف ہے ظہیر
پرچم گرا تو جانیئے پُرکھوں کے سر گرے
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%B3-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D9%86%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%85-%D8%A7%D9%8F%D8%B3-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D9%BE%D8%B1-%DA%AF%D8%B1%DB%92.87532/