جسے تمیز نہیں مجھ سے بات کرنے کی

anwarjamal — ستمبر 11، 2012 8:38 صبح
حقیقتیں نہ دکھائے تو سر کے پاس رھے
مری نگاہ بھی خواب _ سحر کے پاس رھے
ترقیوں کے منازل وہ طے کرے کیسے ؟
جو شخص گھر سے چلے اور گھر کے پاس رھے
ذرا سی دیر کو سوچو کہ حال کیا ہوگا
اگر یہ رزق کا ٹھیکہ بشر کے پاس رھے
تخیلات کی وادی میں کیا اڑان بھرے
وہ مرغ دل کہ جو مرغی کے پر کے پاس رھے
کسی کی یادوں سے وہ کیسے دور ہونے دے
وہ میرا عشق جو ہردم نظر کے پاس رھے
اس ایک شخص کی قسمت میں صرف بچے ہیں
جو سب سے دور شریک _ سفر کے پاس رھے
جسے تمیز نہیں مجھ سے بات کرنے کی
وہ شخص جا کے کسی جانور کے پاس رھے
تو میرے پاس رھے ایسے اے مرے محبوب
کہ جیسے دھوپ میں سایہ شجر کے پاس رھے
انور جمال انور
سید زبیر — ستمبر 11، 2012 8:52 صبح
تو میرے پاس رھے ایسے اے مرے محبوب​
کہ جیسے دھوپ میں سایہ شجر کے پاس رھے​
واہ ۔ ۔ ۔ بہت خوب
عدیل منا — ستمبر 11، 2012 8:59 صبح
ماشاء بہت اچھی شراکت ہے۔ ایک شعر میں کچھ کڑواہٹ (کھردرا پن) محسوس ہوا ہے۔
جسے تمیز نہیں مجھ سے بات کرنے کی
وہ شخص جا کے کسی جانور کے پاس رھے
ایک شعر میں مزاح کا عنصرپایا جاتا ہے
اس ایک شخص کی قسمت میں صرف بچے ہیں
جو سب سے دور شریکِ سفر کے پاس رھے
تلخی اور مزاح کا امتزاج تحریر کے لطف میں روک بن جاتا ہے۔
میں نے جو محسوس کیا اس کا اظہار کردیا۔ ضروری نہیں کہ میرا کہا صحیح ہو۔
خوش رہیں۔
anwarjamal — ستمبر 11، 2012 9:04 صبح
متفق ،،،

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D9%85%DB%8C%D8%B2-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C.54250/