جفا کا نام مت لے ، یاں وفا سے کام چلتے ہیں

نور وجدان — ستمبر 12، 2016 4:11 صبح
جفا کا نام مت لے ، یاں وفا سے کام چلتے ہیں
وہی دنیا میں باقی رہتے جو مر کے بھی جیتے ہیں
ملی معراج ھو سے ، عکسِ ھو میں ذات ہےموجود
کمالِ رقص بسمل میں ہی ہم اپنا اوج پاتے ہیں
رموزِ عشق ہجرت کی بدولت کھولتے ہیں ہم
ہمی قالو بلی کے رقص میں اکثر جو رہتے ہیں
نمودِ ہست کی فطرت کے جلتے دیے رہنے
قلندر پر ازل کے پردے سارے فاش ہوتے ہیں
ازل کے نور نے مجذوبیت بخشی ، ہوں مثلِ بحر
تلاطم خیزی سے طوفان میری گھبرا جاتے ہیں​
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 19، 2016 4:22 صبح
سعدیہ صاحبہ بہت اچھی کاوش ہے۔ ایک نظر قوافی کو دیکھ لیجئے۔
الف عین — ستمبر 19، 2016 11:13 صبح
سعدیہ صاحبہ بہت اچھی کاوش ہے۔ ایک نظر قوافی کو دیکھ لیجئے۔
ایک نظر نہیں، شاید کئی نظروں کی ضرورت پڑے۔ قوافی ہیں ہی نہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%81%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AA-%D9%84%DB%92-%D8%8C-%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%88%D9%81%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.91887/