جلوہء دید پہ ہر آن ہے حیراں___

La Alma — اپریل 2، 2021 4:52 شام
جلوہء دید پہ ہر آن ہے حیراں
عکسِ صد ناز در آئینہء خوباں
صبح نومید کبھی شام پریشاں
رنگ لایا ہے عجب عالمِ ہجراں
چند پل کو سہی، مشکل تو ہو آساں
رک ذرا دیر ہی اے گردشِ دوراں
سرفروشی نے سُجھائی ہے نئی رہ
کنجِ وحشت میں کھلا دفترِ امکاں
سوئے افلاک نگہ اٹھتی نہیں ہے
بس نظر میں ہے مری تنگیء داماں
حسن جاں سوز، فسوں کارِ تمنا
سازِ غم ہائے محبت پہ ہے رقصاں
داغِ دل جلتے رہے، ان کی ضیا سے
کتنے روشن ہوئے تارے سرِ مژگاں
ہم پہ المٰیؔ نہ کھلا عقدہء آدم
کیا خبر کون ہے یہ حضرتِ انساں
محمد وارث — اپریل 2، 2021 5:04 شام
کیا اچھے مصرعے ہیں، کیا خوب اشعار ہیں، کیا ہی عمدہ غزل ہے۔
کنجِ وحثت میں کھلا دفترِ امکاں
مجھے لگا میری پچھلی ایک تہائی صدی کی زندگی جو میں نے ایک کمرے میں گزاری ہے وہ اس مصرعے میں سمٹ آئی۔ :)
واہ واہ واہ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 2، 2021 8:14 شام
ماشاءاللہ بہت عمدہ اور مرصع غزل ہے۔
La Alma — اپریل 2، 2021 8:45 شام
کیا اچھے مصرعے ہیں، کیا خوب اشعار ہیں، کیا ہی عمدہ غزل ہے۔
بہت مشکور ہوں۔
فیڈ بیک اور غزل کی پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ!!
کنجِ وحثت میں کھلا دفترِ امکاں
مجھے لگا میری پچھلی ایک تہائی صدی کی زندگی جو میں نے ایک کمرے میں گزاری ہے وہ اس مصرعے میں سمٹ آئی۔ :)
کنج وحشت کو دوسرے لفظوں میں" گوشہء عافیت" بھی کہتے ہیں۔ :)
La Alma — اپریل 2، 2021 8:46 شام
ماشاءاللہ بہت عمدہ اور مرصع غزل ہے۔
سپاس گزار ہوں۔!!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 8، 2021 4:37 صبح
واہ! بہت خوب! اچھی غزل ہے لاالمٰی!
کئی اچھے اشعار ہیں! بہت داد آپ کے لئے۔
مطلع بہت اچھا ہے لیکن جلوۂ دید کی ترکیب سے اس کی خوبصورتی ماند پڑرہی ہے۔ ۔ جلوہ اور دید ہم معنی الفاظ ہیں ۔ جلوۂ دید کے بجائے جلوۂ حسن یا جلوۂ شوخ وغیرہ بھی رکھا جاسکتا ہے ۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2021 4:52 صبح
لاجواب۔
صبح نومید کبھی شام پریشاں
رنگ لایا ہے عجب عالمِ ہجراں

چند پل کو سہی، مشکل تو ہو آساں
رک ذرا دیر ہی اے گردشِ دوراں

سرفروشی نے سُجھائی ہے نئی رہ
کنجِ وحشت میں کھلا دفترِ امکاں

سوئے افلاک نگہ اٹھتی نہیں ہے
بس نظر میں ہے مری تنگیء داماں

داغِ دل جلتے رہے، ان کی ضیا سے
کتنے روشن ہوئے تارے سرِ مژگاں

ہم پہ المٰیؔ نہ کھلا عقدہء آدم
کیا خبر کون ہے یہ حضرتِ انساں
کمال
La Alma — اپریل 8، 2021 12:18 شام
واہ! بہت خوب! اچھی غزل ہے لاالمٰی!
کئی اچھے اشعار ہیں! بہت داد آپ کے لئے۔
مطلع بہت اچھا ہے لیکن جلوۂ دید کی ترکیب سے اس کی خوبصورتی ماند پڑرہی ہے۔ ۔ جلوہ اور دید ہم معنی الفاظ ہیں ۔ جلوۂ دید کے بجائے جلوۂ حسن یا جلوۂ شوخ وغیرہ بھی رکھا جاسکتا ہے ۔
بہت عنایت!!
آپ اہلِ علم ہیں سو آپ کی رائے مقدم ہے۔
جلوہء دید کی ترکیب شاید آپ کو غریب معلوم ہو رہی ہو لیکن کہیں میری نظر سے گزری ہے۔ فی الحال حوالہ پیش کرنے سے قاصر ہوں
آپ کی دی ہوئی متبادل تجاویز بہت خوب ہیں لیکن اس سے شعر کا مفہوم قدرے تبدیل ہو جائے گا۔
یہاں پر عکس، پسِ آئینہ کسی "حسن" کا مدح سرا نہیں بلکہ عکس کا روئے سخن خود اپنی دید کی جانب ہے جس پر وہ نازاں ہے۔
La Alma — اپریل 8، 2021 12:20 شام
تشکر بسیار!!
سید عاطف علی — اپریل 8، 2021 12:49 شام
واہ بحر جتنی "غریب" ہے غزل اتنی ہی رِچ ماشاءاللہ ۔
بہت پسند آئی ۔
کیا خبر کون ہے یہ حضرتِ انساں
واہ کیا خوب بیان ہے ۔
La Alma — اپریل 8، 2021 2:29 شام
واہ بحر جتنی "غریب" ہے غزل اتنی ہی رِچ ماشاءاللہ ۔
بہت پسند آئی ۔
کیا خبر کون ہے یہ حضرتِ انساں
واہ کیا خوب بیان ہے ۔
بہت شکریہ عاطف بھائی!!
آپ کو فعال دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اللہ تعالی آپ اور آپ کے خاندان پر ہمیشہ اپنی رحمتوں کا نزول جاری رکھے۔ آمین۔
عرفان علوی — اپریل 11، 2021 3:53 صبح
جلوہء دید پہ ہر آن ہے حیراں
عکسِ صد ناز در آئینہء خوباں
صبح نومید کبھی شام پریشاں
رنگ لایا ہے عجب عالمِ ہجراں
چند پل کو سہی، مشکل تو ہو آساں
رک ذرا دیر ہی اے گردشِ دوراں
سرفروشی نے سُجھائی ہے نئی رہ
کنجِ وحشت میں کھلا دفترِ امکاں
سوئے افلاک نگہ اٹھتی نہیں ہے
بس نظر میں ہے مری تنگیء داماں
حسن جاں سوز، فسوں کارِ تمنا
سازِ غم ہائے محبت پہ ہے رقصاں
داغِ دل جلتے رہے، ان کی ضیا سے
کتنے روشن ہوئے تارے سرِ مژگاں
ہم پہ المٰیؔ نہ کھلا عقدہء آدم
کیا خبر کون ہے یہ حضرتِ انساں
المیٰ صاحبہ ، سلام عرض ہے !
نہایت مرصع غزل ہے . بہت ساری داد ! مقطع میں ’حضرت‘ كے ساتھ ’ہے‘ کی بجائے ’ہیں‘ زیادہ مناسب ہوتا .
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
الف عین — اپریل 11، 2021 6:03 صبح
واہ، ماشاء اللہ عمدہ غزل
La Alma — اپریل 11، 2021 7:34 صبح
المیٰ صاحبہ ، سلام عرض ہے !
نہایت مرصع غزل ہے . بہت ساری داد ! مقطع میں ’حضرت‘ كے ساتھ ’ہے‘ کی بجائے ’ہیں‘ زیادہ مناسب ہوتا .
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
بہت ممنون ہوں!!
تبصرے اور تجویز کے لیے بہت شکریہ۔
"ہیں“ سے زیادہ دھیان حضرت آدم کی طرف جاتا ہے جیسا کہ پہلے مصرع میں بھی ذکر ہے، جو کہ مناسب نہیں۔ جبکہ یہاں آدم اور انسان کو عمومی معنوں میں لیا گیا ہے۔
خوش رہیے!!
والسلام!!
La Alma — اپریل 11، 2021 7:48 صبح
واہ، ماشاء اللہ عمدہ غزل
شکر گزار ہوں سر!!
جزاک اللہ ، خدا آپ کو اپنی امان میں رکھے۔
فاخر رضا — اپریل 11، 2021 8:20 صبح
بہت مشکل غزل ہے ہم جیسوں کے لیے مگر کچھ اشعار سمجھ آئے. بلند خیالات سے بھرپور غزل. ہر موضوع ہی موجود ہے.
کچھ سہل غزلیں بھی عنایت فرمائیے ہم جیسوں کے لئے
سیما علی — اپریل 11، 2021 8:48 صبح
ہم پہ المٰیؔ نہ کھلا عقدہء آدم
کیا خبر کون ہے یہ حضرتِ انساں
بہت خوب !!!!بہت عمدہ !!!
ہم جیسوں کے لئیے بہت ثقیل پر اہلِ علم کے لئیے آسان !!!بہت ساری دعائیں ڈھیروں داد و تحسن !!!!
La Alma — اپریل 11، 2021 9:25 صبح
بہت مشکل غزل ہے ہم جیسوں کے لیے مگر کچھ اشعار سمجھ آئے. بلند خیالات سے بھرپور غزل. ہر موضوع ہی موجود ہے.
کچھ سہل غزلیں بھی عنایت فرمائیے ہم جیسوں کے لئے
بہت شکریہ!!
آپ تو حرف شناس ہیں آپ کو فہم کہاں دشوار۔
La Alma — اپریل 11، 2021 9:28 صبح
بہت خوب !!!!بہت عمدہ !!!
ہم جیسوں کے لئیے بہت ثقیل پر اہلِ علم کے لئیے آسان !!!بہت ساری دعائیں ڈھیروں داد و تحسن !!!!
قدر افزائی کے لیے شکریہ ورنہ ہم تو ۔۔۔
"گئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے"
سیما علی — اپریل 11، 2021 9:36 صبح
قدر افزائی کے لیے شکریہ ورنہ ہم تو ۔۔۔
"گئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے"
بہت سا پیار :in-love::in-love:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%D8%A1-%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D9%BE%DB%81-%DB%81%D8%B1-%D8%A2%D9%86-%DB%81%DB%92-%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%A7%DA%BA___.115757/