جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 3:50 شام
غزل
جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک
ہے چراغوں کی آخری دم تک
آدمی پر نجانے کیا گزری
ابنِ آدم سے ابنِ درہم تک
تم مسیحا کی بات کرتے ہو ؟
ابھی خالص نہیں ہے مرہم تک !
معجزہ دیکھئے توکّل کا !
ریگِ صحرا سے آبِ زمزم تک
داستا ں ہے شگفتنِ دل کی
خندہء گل سے اشکِ شبنم تک
اک سفر ہے کہ طے نہیں ہوتا
سرخ ہجرت سے سبز پرچم تک
فاصلے کیسے ، دوریاں کیسی ؟
جن کو ملنا تھا آگئے ہم تک
پیار دھرتی پہ ہے خلامیں نہیں
آسماں کو ظہیر کم کم تک
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ جون ۲۰۱۳​
محمد تابش صدیقی — ستمبر 21، 2016 3:55 شام
لاجواب. مختصر بحر، منفرد ردیف. کس خوبصوتی سے موتی پرو دیے ہیں. سبحان اللہ
غزل
جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک
ہے چراغوں کی آخری دم تک
آدمی پر نجانے کیا گزری
ابنِ آدم سے ابنِ درہم تک
تم مسیحا کی بات کرتے ہو ؟
ابھی خالص نہیں ہے مرہم تک !
معجزہ دیکھئے توکّل کا !
ریگِ صحرا سے آبِ زمزم تک
داستا ں ہے شگفتنِ دل کی
خندہء گل سے اشکِ شبنم تک
اک سفر ہے کہ طے نہیں ہوتا
سرخ ہجرت سے سبز پرچم تک
فاصلے کیسے ، دوریاں کیسی ؟
جن کو ملنا تھا آگئے ہم تک
پیار دھرتی پہ ہے خلامیں نہیں
آسماں کو ظہیر کم کم تک
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ جون ۲۰۱۳​
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:29 شام
لاجواب. مختصر بحر، منفرد ردیف. کس خوبصوتی سے موتی پرو دیے ہیں. سبحان اللہ

ذرہ نوازی ہے ! بہت شکریہ بھائی!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%90-%D8%A8%D8%B1%DB%81%D9%85-%D8%AA%DA%A9.92037/