جو تری قربتوں کو پاتا ہے (عمران شناور)

عمران شناور — مارچ 12، 2009 9:52 صبح
جو تری قربتوں کو پاتا ہے
اس کو مرنے میں‌لطف آتا ہے
میں جسے آشنا سمجھتا ہوں
دور بیٹھا وہ مسکراتا ہے
میں تو ممنون ہوں زمانے کا
سیکھ لیتا ہوں جو سکھاتا ہے
میں ہی سنتا نہیں صدا اس کی
روز کوئی مجھے بلاتا ہے
تیرگی دربدر ہے گلیوں میں
دیکھیے کون گھر جلاتا ہے
تو نے منزل تو دیکھ لی عمران
اب تجھے راستہ بلاتا ہے
(عمران شناور)
ش زاد — مارچ 12، 2009 5:09 شام
تیرگی دربدر ہے گلیوں میں
دیکھیے کون گھر جلاتا ہے
واھ کیا ہی اچھا شعر ہے
فاتح — مارچ 12، 2009 5:47 شام
خوبصورت غزل ہے۔ مبارکباد
عمران شناور — مارچ 20، 2009 6:23 صبح
دونوں دوستوں کا بہت بہت شکریہ!
محمد وارث — مارچ 20، 2009 6:41 صبح
بہت اچھی غزل ہے عمران صاحب!
میں تو ممنون ہوں زمانے کا
سیکھ لیتا ہوں جو سکھاتا ہے
تیرگی دربدر ہے گلیوں میں
دیکھیے کون گھر جلاتا ہے
واہ واہ واہ، لاجواب!
عمران شناور — مارچ 20، 2009 8:18 صبح
وارث جی! بہت بہت شکریہ
الف عین — مارچ 20، 2009 10:02 صبح
اچھی غزل ہے۔ مطلع میں ’کو‘ کی جگہ ’جو‘ ٹائپ ہوا ہے۔ تصحیح کر لیں
عمران شناور — مارچ 20، 2009 11:06 صبح
بہت شکریہ الف عین صاحب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%88-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%88%D8%B1.20038/