جوانی کی ایک غزل تقریبا 1993 کی

محمد شکیل خورشید — فروری 12، 2020 6:14 شام
دلِ بے چین کو قرار نہیں
تیرے غم سے ہمیں فرار نہیں
اب کے اتری نہیں ہے فصلِ گلاب
اب کے باغوں میں وہ بہار نہیں
میرے اشکوں نے دھو دیا مجھ کو
اب مرے دل پہ کچھ غبار نہیں
ایک بے نام سی خلش ہے ضرور
گو ہمیں تیرا انتظار نہیں
کیا کہیں اس کی کج ادائی کو
ہم نے مانا ہمیں ہی پیار نہیں
بے یقینی سدا رہے گی شکیل
گر تمہیں خود پہ اعتبار نہیں
احباب واساتذہ کی توجہ کا طالب
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن ودیگر
الف عین — فروری 13، 2020 4:29 صبح
مطلع میں ایطا ہو گیا ہے اسے بدل دیں
میرے اشکوں نے دھو دیا مجھ کو
اب مرے دل پہ کچھ غبار نہیں
.. اچھا شعر ہے لیکن دونوں مصرعوں میں ربط پیدا کرنے کے لئے
'دھو دیا اس کو' بہتر رہے گا شاید۔
باقی درست ہی لگ رہی ہے غزل
محمد شکیل خورشید — فروری 13، 2020 12:18 شام
مطلع میں ایطا ہو گیا ہے اسے بدل دیں
میرے اشکوں نے دھو دیا مجھ کو
اب مرے دل پہ کچھ غبار نہیں
.. اچھا شعر ہے لیکن دونوں مصرعوں میں ربط پیدا کرنے کے لئے
'دھو دیا اس کو' بہتر رہے گا شاید۔
باقی درست ہی لگ رہی ہے غزل
شکریہ استادِ محترم
کیا یہ دو شعر مناسب رہیں گے
ہمیں دل پر یہ اختیار نہیں
تیرے غم سے ہمیں فرار نہیں
جب سے آکر بسے ہو تم اس میں
دلِ بے چین کو قرار نہیں
احمد محمد — فروری 13، 2020 2:24 شام
ماشاء اللّٰہ۔ بہت خوب بڑے بھائی۔
الف عین — فروری 14، 2020 9:05 صبح
شکریہ استادِ محترم
کیا یہ دو شعر مناسب رہیں گے
ہمیں دل پر یہ اختیار نہیں
تیرے غم سے ہمیں فرار نہیں
جب سے آکر بسے ہو تم اس میں
دلِ بے چین کو قرار نہیں
درست ہیں دونوں اشعار
ظہیراحمدظہیر — فروری 18، 2020 5:24 صبح
بہت خوب ! واہ!
محمد شکیل خورشید — فروری 19، 2020 4:34 شام
درست ہیں دونوں اشعار
شکریہ استادِ محترم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7-1993-%DA%A9%DB%8C.110470/