جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں

حسیب احمد حسیب — جنوری 19، 2016 6:31 شام
غزل ... !
جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں
آ بھی جاؤ دے رہی ہیں اب دھائی انگلیاں
تھام رکھا ہے تمہارا ہاتھ ہم نے اس طرح
انگلیوں سے پا نہیں سکتیں رہائی انگلیاں
یاد ہے مجھ کو ابھی تک آخری لمحے کا لمس
مضطرب تھیں کس قدر وقت جدائی انگلیاں
خوبصورت انگلیوں کی زلف سے اٹکھیلیاں
کسطرح کرتی تھیں یاروں خود نمائی انگلیاں
محو گردش ہے کوئی مجذوب جیسے حال میں
تھیں کسی چہرے پہ رقصاں یوں فدائی انگلیاں
آج دیکھا ہے انہیں اس رنگ میں برسوں کے بعد
ہاتھ ، گجرا ، ریشمی آنچل ، مٹھائی ، انگلیاں
یوں میرے چہرے کو چھو کر دیکھتی ہیں بار بار
دے رہی ہوں جیسے اب اپنی صفائی انگلیاں
حسیب احمد حسیب

سعیدالرحمن سعید — جنوری 19، 2016 7:52 شام
واہ کیا بات ہے جناب۔
عثمان قادر — جنوری 20، 2016 5:03 صبح
تھام رکھا ہے تمہارا ہاتھ ہم نے اس طرح
انگلیوں سے پا نہیں سکتیں رہائی انگلیاں
واہ بہت خوب ۔۔۔۔۔
محمد امین — جنوری 20، 2016 9:01 صبح
واہ واہ وا۔۔۔۔ شاندار
ہاتھ ، گجرا ، ریشمی آنچل ، مٹھائی ، انگلیاں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%A2%D9%86%DA%86%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%AD%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%84%DB%8C%D8%A7%DA%BA.87324/