ش زاد — دسمبر 11، 2008 10:07 شام
جھوٹی انا کی پالی دُنیا
رُوکھی ، پھیکی ، کالی دُنیا
ظاہر میں بُراق لبادے
اندر سے ہے خالی دُنیا
رشتے ناتے جھوٹے اس کے
پیسے کی متوالی دُنیا
پیار کی مالا جپتی جائے
نفرت کرنے والی دُنیا
اس کے سارے رنگ ہیں پھیکے
ہم نے ٹھونک بجالی دُنیا
پِھر بھی اپنی سی لگتی ہے
ہم نے بھی اپنا لی دُنیا
ش زاد
محمد وارث — دسمبر 12، 2008 9:07 صبح
واہ واہ واہ،
کیا خوبصورت غزل ہے، لا جواب، بہت خوب!
ش زاد — دسمبر 12، 2008 9:12 صبح
واہ واہ واہ،
کیا خوبصورت غزل ہے، لا جواب، بہت خوب!
آپ کا میرے کلام کو پسند کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے
بہت بہت نوازش وارث بھائی

محمد وارث — دسمبر 12، 2008 9:19 صبح
شکریہ شہزاد صاحب، اور ہاں پلیز مطلع میں رکھی کی املا اگر 'روکھی' کر دیں تو نوازش!
ش زاد — دسمبر 12، 2008 9:22 صبح
شکریہ شہزاد صاحب، اور ہاں پلیز مطلع میں رکھی کی املا اگر 'روکھی' کر دیں تو نوازش!
بہت نوازش وارث بھئی کر دیا ہے
ابن سعید — دسمبر 12، 2008 9:28 صبح
پھر وہی کہوں گا
لا جواب!
ش زاد — دسمبر 12، 2008 9:32 صبح
اور میرا دامن تنگ ہے آپ سب کی محبتیں سمیٹنے کو


الف نظامی — دسمبر 12، 2008 3:33 شام
بہت خوب!!!
الف عین — دسمبر 12، 2008 4:20 شام
اچھی غزل ہے لیکن شہزاد، تمہاری دوسری غزلوں کے پائے کی نہیں۔
ش زاد — دسمبر 12، 2008 11:44 شام
نوازش صاحب

ش زاد — دسمبر 12، 2008 11:48 شام
اچھی غزل ہے لیکن شہزاد، تمہاری دوسری غزلوں کے پائے کی نہیں۔
بہت نوازش اعجاز صاحب
حضور یہ اس وقت کی ہے کہ جب ابھی صرف اتنا جان پایا تھا کہ میں بھی شعر کہ سکتا ہوں
ویسے یہ میرے دیوان میں شامل نہیں ہے