جھیل میں لمس کی تحریر بنانی ہے مجھے
آنکھ میں چاند کی تصویر بنانی ہے مجھے
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیند کی آنکھ میں رکھنا ہے کسی کا چہرہ
خواب کو دیکھ کے تعبیر بنانی ہے مجھے
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
لب پہ رانجھے کی طلب رکھنے سے پہلے نیناں
اپنے اندر بھی کوئی ہیر بنانی ہے مجھے
نیناں
آنکھ میں چاند کی تصویر بنانی ہے مجھے
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیند کی آنکھ میں رکھنا ہے کسی کا چہرہ
خواب کو دیکھ کے تعبیر بنانی ہے مجھے
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
لب پہ رانجھے کی طلب رکھنے سے پہلے نیناں
اپنے اندر بھی کوئی ہیر بنانی ہے مجھے
نیناں
