جھیل میں لمس کی تحریر

F@rzana — نومبر 26، 2006 10:59 شام
جھیل میں لمس کی تحریر بنانی ہے مجھے
آنکھ میں چاند کی تصویر بنانی ہے مجھے
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیند کی آنکھ میں رکھنا ہے کسی کا چہرہ
خواب کو دیکھ کے تعبیر بنانی ہے مجھے
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
لب پہ رانجھے کی طلب رکھنے سے پہلے نیناں
اپنے اندر بھی کوئی ہیر بنانی ہے مجھے
نیناں
ڈاکٹر عباس — نومبر 27، 2006 3:19 صبح
F@rzana نے کہا:
جھیل میں لمس کی تحریر بنانی ہے مجھے
آنکھ میں چاند کی تصویر بنانی ہے مجھے
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیند کی آنکھ میں رکھنا ہے کسی کا چہرہ
خواب کو دیکھ کے تعبیر بنانی ہے مجھے
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
لب پہ رانجھے کی طلب رکھنے سے پہلے نیناں
اپنے اندر بھی کوئی ہیر بنانی ہے مجھے
نیناں
بہت عمدہ اور خاص کر یہ تھر کا حوالہ
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
دوست — نومبر 27، 2006 3:45 صبح
:best:
پسند آئی۔
جاویداقبال — نومبر 27، 2006 6:01 صبح
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
بہت خوب سسٹرنیناں، واقعی آپ کی شاعری میں بہت گہرائی ہے ۔ اللہ تعالی اورترقی دے (آمین ثم آمین)
والسلام
جاویداقبال
عمر سیف — نومبر 27، 2006 7:49 صبح
F@rzana نے کہا:

خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیناں
خوب۔ بہت عمدہ۔
پاکستانی — نومبر 27، 2006 8:40 صبح
بہت خوب
تیلے شاہ — نومبر 27، 2006 12:15 شام
خشک اور سالی پڑھ کے بے اختیار ہنسی آگئی
تیشہ — نومبر 27، 2006 2:49 شام
F@rzana نے کہا:
جھیل میں لمس کی تحریر بنانی ہے مجھے
آنکھ میں چاند کی تصویر بنانی ہے مجھے
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیند کی آنکھ میں رکھنا ہے کسی کا چہرہ
خواب کو دیکھ کے تعبیر بنانی ہے مجھے
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
لب پہ رانجھے کی طلب رکھنے سے پہلے نیناں
اپنے اندر بھی کوئی ہیر بنانی ہے مجھے
نیناں

:khoobsurat: :zabardast1:
سہیلی ، واقعی بہت اچھی ۔
قیصرانی — نومبر 27، 2006 3:14 شام
بہت عمدہ فرزانہ صاحبہ
شمشاد — نومبر 27، 2006 3:25 شام
تیلے شاہ نے کہا:
خشک اور سالی پڑھ کے بے اختیار ہنسی آگئی

بہت خوبصورت نظم ہے۔
اور شاہ جی اب تو شادی ہو گئی ہے آپ کی اب تو آپ کو یاد آئیں گی ناں :wink:
راسخ کشمیری — نومبر 30، 2006 8:53 شام
آپکی دانائی کی عکاسی بھی ان اشعار میں ہو رہی ہے ۔
زبردست
خدا کرے زور قلم اور زیادہ
dilshadnazmi — دسمبر 2، 2006 9:24 صبح
F@rzana نے کہا:
جھیل میں لمس کی تحریر بنانی ہے مجھے
آنکھ میں چاند کی تصویر بنانی ہے مجھے
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سوکھے آنسو
تھر میں بارش کی بھی تدبیر بنانی ہے مجھے
نیند کی آنکھ میں رکھنا ہے کسی کا چہرہ
خواب کو دیکھ کے تعبیر بنانی ہے مجھے
سوچنا صرف نہیں چاہنے والے کے لیئے
اپنے بچوں کی بھی تقدیر بنانی ہے مجھے
لب پہ رانجھے کی طلب رکھنے سے پہلے نیناں
اپنے اندر بھی کوئی ہیر بنانی ہے مجھے
نیناں
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خشک سالی میں ضروری ہیں یہ سو کھے آ نسو
گھر میں بارش کی بھی تصویر بنانی ہے مجھے
آپ کے کلام میں روانی ہے ۔ بے باکی ہے اور کسی اُلجھن کے بغیر آپ اپنی بات کہنے کی عادی ہیں ۔ یہ طرز کسی کسی کو بہت سارےتجر بوں سے گزرنے کے بعد آتا ہے ۔ اللہ کرے آپ کا رنگ یوں ہی قایم رہے ۔ بہت خوب ،، مزہ آیا ، آپ کا کلام پڑھ کا ۔۔۔۔۔ اور دیگر تخلیقات کا بھی انتظار رہے گا
خیر اندیش دلشاد نظمی
تیشہ — دسمبر 26، 2006 12:21 شام
فرزانہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
الف عین — دسمبر 26، 2006 4:13 شام
نیناں۔ یہ غزل سمت کے تازہ شمارے میں شامل کر دی گئ ہے۔ دو ایک دن میں اپ لوڈ ہو جائے گا شمارہ۔
حنا فیصل — مئی 10، 2007 2:07 صبح
بہت خوبصورت شاعری پڑھنے کو ملی
فرزانہ بہن چھا گئی ہیں برے دنوں کی طرح
خیر بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے شکریہ
ہما — جون 26، 2007 3:23 صبح
بُہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DA%BE%DB%8C%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D9%85%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1.4820/