جہان بھر کے مسائل ہیں اک سفر میں مُجھے۔۔۔۔۔غزل

ش زاد — دسمبر 11، 2008 5:27 شام
جہان بھر کے مسائل ہیں اک سفر میں مُجھے
مگر سمجھتے نہیں لوگ میرے گھر میں مُجھے
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
کچھ اور دن ابھی چلنی ہے بات مقتل کی
کچھ اور دن ابھی رہنا ہے اس خبر میں مُجھے
مِرا قرار بھی لُوٹا تھا میری آنکھوں نے
مِلا سکون بھی اپنی ہی چشمِ تر میں مُجھے
یہ کیسا وعدہ کیا تُو نے یار آنے کا
کہ ٹانک ڈالا ہے اس نے تو میرے در میں مُجھے
کُچھ ایسی آج عنایت مری نظر پہ ہوئی
دِکھائی دینے لگا حاشیہ قمر میں مُجھے
ابھی بنایا ہے تصویر میں شجر میں نے
ابھی بنانا ہے اک گھونسلہ شجر میں مُجھے
ش زاد
فاتح — دسمبر 11، 2008 8:16 شام
انتہائی خوبصورت۔ سبحان اللہ!
اور ذیل کے شعر کی چاشنی تو کئی بار پڑھنے پر بھی کم نہیں‌ہوتی:
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
ش زاد — دسمبر 11، 2008 9:52 شام
انتہائی خوبصورت۔ سبحان اللہ!
اور ذیل کے شعر کی چاشنی تو کئی بار پڑھنے پر بھی کم نہیں‌ہوتی:
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
حضور کا حُسنِ زوق و نظر ہے
ورنہ میری اپنے بارے میں یہ
""اُس کھوکھلے درخت کو تو آگ دیجیئے
جو نہ ہی ثمر بار ہے نہ سائہ دار ہے""

رائے ہے اور یہ سچ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:cry:
شعر تو میر نے کہے غالب نے کہے اقبال نے کہے فیض و فراز نے کہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر
آپ نے میری ان بے تُکی کارستانیوں کو سراہا اس کے لیے بہت ممنون ہوں فاتح بھائی اللہ آپ کو سلامت رکھے
آمین
مغزل — دسمبر 12، 2008 6:38 صبح
بہت شکریہ شین زاد کیا ہی اچھا کلام ہے واہ ۔
درج ذیل اشعار پر خصوصی داد قبول کیجئے ۔
(احبا ب یہ غزل شین نے مجھے پہلی ملاقات میں سنائی تھی )
جہان بھر کے مسائل ہیں اک سفر میں مُجھے
مگر سمجھتے نہیں لوگ میرے گھر میں مُجھے
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
کچھ اور دن ابھی چلنی ہے بات مقتل کی
کچھ اور دن ابھی رہنا ہے اس خبر میں مُجھے
ابھی بنایا ہے تصویر میں شجر میں نے
ابھی بنانا ہے اک گھونسلہ شجر میں مُجھے
ش زاد — دسمبر 12، 2008 8:07 صبح
بہت شکریہ شین زاد کیا ہی اچھا کلام ہے واہ ۔
درج ذیل اشعار پر خصوصی داد قبول کیجئے ۔
(احبا ب یہ غزل شین نے مجھے پہلی ملاقات میں سنائی تھی )
جہان بھر کے مسائل ہیں اک سفر میں مُجھے
مگر سمجھتے نہیں لوگ میرے گھر میں مُجھے
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
کچھ اور دن ابھی چلنی ہے بات مقتل کی
کچھ اور دن ابھی رہنا ہے اس خبر میں مُجھے
ابھی بنایا ہے تصویر میں شجر میں نے
ابھی بنانا ہے اک گھونسلہ شجر میں مُجھے
محمود بھائی اللہ آپ کو سلامت رکھے آمین
آپ بھی خوب شعر کہیں۔۔۔۔۔۔۔آمین
ملاقات کب ہو ہی ہے سرکار؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مغزل — دسمبر 12، 2008 8:29 صبح
منگل 16 دسمبر ، سٹی آفیسرز کلب ، کشمیر روڈ ، جیل چورنگی،
وہیں جہاں ملے تھے۔۔ شام 6:20 پر میں آپ کا منتظر ہوں گا۔
والسلام
ش زاد — دسمبر 12، 2008 8:35 صبح
منگل 16 دسمبر ، سٹی آفیسرز کلب ، کشمیر روڈ ، جیل چورنگی،
وہیں جہاں ملے تھے۔۔ شام 6:20 پر میں آپ کا منتظر ہوں گا۔
والسلام
ناچیز کو بیچینی سے انتظار رہے گا 16 دسمبر کا
مغزل — دسمبر 12، 2008 9:06 صبح
میں بھی سراپا انتظار رہوں گا۔۔ جناب
ش زاد — دسمبر 12، 2008 9:14 صبح
میں بھی سراپا انتظار رہوں گا۔۔ جناب

:hatoff::hatoff::hatoff: نوازش حضور
محمد وارث — دسمبر 12، 2008 9:23 صبح
لا جواب، بہت اچھی غزل ہے شہزاد صاحب! بہت خوب۔
ش زاد — دسمبر 12، 2008 9:24 صبح
لا جواب، بہت اچھی غزل ہے شہزاد صاحب! بہت خوب۔

:hatoff::hatoff::hatoff::hatoff::hatoff::hatoff:
الف عین — دسمبر 12، 2008 4:17 شام
کچھ اور دن ابھی چلنی ہے بات مقتل کی
کچھ اور دن ابھی رہنا ہے اس خبر میں مُجھے
مِرا قرار بھی لُوٹا تھا میری آنکھوں نے
مِلا سکون بھی اپنی ہی چشمِ تر میں مُجھے
خوب۔۔۔ لیکن ان اشعار میں کچھ گڑبڑ ہے؛
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
یہ کیسا وعدہ کیا تُو نے یار آنے کا
کہ ٹانک ڈالا ہے اس نے تو میرے در میں مُجھے
بحر میں نہیں، الفاظ کے استعمال اور ان کی نشست پر اعتراض کر رہا ہوں۔ پہلے شعر کے پہلے مصرعے میں اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں میں ۔۔ پہلے مصرعے میں ’یار‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے، اور دوسرے میں ’ٹانک‘۔
ش زاد — دسمبر 12، 2008 11:42 شام
کچھ اور دن ابھی چلنی ہے بات مقتل کی
کچھ اور دن ابھی رہنا ہے اس خبر میں مُجھے
مِرا قرار بھی لُوٹا تھا میری آنکھوں نے
مِلا سکون بھی اپنی ہی چشمِ تر میں مُجھے
خوب۔۔۔ لیکن ان اشعار میں کچھ گڑبڑ ہے؛
نہیں ہوں چاند میں سورج ہوں اور کسی صورت
بسائے بھی تو کہاں تک کوئی نظر میں مُجھے
یہ کیسا وعدہ کیا تُو نے یار آنے کا
کہ ٹانک ڈالا ہے اس نے تو میرے در میں مُجھے
بحر میں نہیں، الفاظ کے استعمال اور ان کی نشست پر اعتراض کر رہا ہوں۔ پہلے شعر کے پہلے مصرعے میں اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعوں میں ۔۔ پہلے مصرعے میں ’یار‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے، اور دوسرے میں ’ٹانک‘۔
بہت شکریہ اعجاز صاحب
یہ کیسا وعدہ کیا تُو نے یار آنے کا
کہ ٹانک ڈالا ہے اس نے تو میرے در میں مُجھے
یہ شعر اس غزل سے میں پہلے ہی نکال چکا ہوں
الف عین — دسمبر 13، 2008 3:17 شام
شکریہ شہزاد میری بات کو اہمیت دینے کا۔
ش زاد — دسمبر 13، 2008 3:23 شام
شکریہ شہزاد میری بات کو اہمیت دینے کا۔
آپ کا اقبال بلند ہو
آمین
ش زاد — فروری 9، 2009 5:58 شام
میری تمام عُمر کا حاصل ہیں ش زاد
لمحے یہ چار وصل کے گھڑیاں وہ ہجر کی
ش زاد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%8F%D8%AC%DA%BE%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84.17278/