جیسے گدڑی میں لعل رکھتے ہیں

Qamar Shahzad — جولائی 2، 2017 4:18 شام
جیسے گدڑی میں لعل رکھتے ہیں
ہم تمہارا خیال رکھتے ہیں
آپ کو جان چاہیے میری
حکم کیجے ، نکال رکھتے ہیں
اشک ، آزار ، غم ، جفا ، تیرے
سارے تحفے سنبھال رکھتے ہیں
یاد کرتے ہیں ان کو فرصت سے
کام سب کل پہ ڈال رکھتے ہیں
اوج ان کو نصیب ہوتا ہے
جو خیالِ زوال رکھتے ہیں
قلبِ شیدا ہے اپنے پہلو میں
وہ بھی چشمِ غزال رکھتے ہیں
آرزو ہم کو بس قمرؔ کی ہے
لاکھ تارے جمال رکھتے ہیں
#قمرآسی
الف عین — جولائی 3، 2017 8:03 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
محمد تابش صدیقی — جولائی 3، 2017 8:29 صبح
بہت خوب جناب۔
آپ کے پرانے اکاؤنٹ کا کیا ہوا؟ :)
Qamar Shahzad — جولائی 3، 2017 9:13 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
بہت نوازش محترم
Qamar Shahzad — جولائی 3، 2017 9:15 صبح
بہت خوب جناب۔
آپ کے پرانے اکاؤنٹ کا کیا ہوا؟ :)

بہت شکریہ
میرا خیال ہے یہی ایک آئی ڈی ہے میری یہاں :)
محمد تابش صدیقی — جولائی 3، 2017 9:17 صبح
بہت شکریہ
میرا خیال ہے یہی ایک آئی ڈی ہے میری یہاں :)
اس سے 4 مراسلے دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ آپ پہلے بھی پوسٹس اور کمنٹس وغیرہ کر چکے ہیں۔
اسد اقبال — جولائی 4، 2017 7:42 صبح
بہت خوب قمر صاحب
ظہیراحمدظہیر — جولائی 9، 2017 3:35 شام
بہت خوب قمر شہزاد صاحب! اچھی غزل ہے !!
مطلع کے قوافی پر تکنیکی اعتبار سے اعتراض وارد ہوسکتا ہے لیکن میں صوتی قافیہ کا قائل ہوں سو مجھے گوارا ہے ۔

کام سب کل پہ ڈال رکھتے ہیں
اس مصرع میں شاید ٹائپو ہے ۔ یہاں ڈال کے بجائے ٹال ہونا چاہیئے
۔ :)
بزمِ سخن میں خوش آمدید !! امید ہے کہ مزید کلام بھی عطا فرماتے رہیں گے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%AF%DA%91%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D8%B9%D9%84-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.97392/