حاصل ہے ساری عمر کا اک سوزِ ناتمام --------محمود احمد غزنوی

محمود احمد غزنوی — جنوری 20، 2010 7:14 شام
غزل

حاصل ہے ساری عمر کا اک سوزِ ناتمام
دستِ طلب میں کچھ نہیں ،بس ایک ترا نام
جس پر بہت ہی ناز کیا ہے تمام عمر
آخر پتہ چلا وہ محبّت تھی میری خام
جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا
اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام
سوچوں کے دھندلکے میں دکھائی نہیں دیا
پھر چھپ گیا وہ اوڑھ کے اک ملگجی سی شام
پیروں تلے پجاریوں کے آرہے ہیں اب
کچھ مستقل مزاج سے پتھر ہوئے نہ رام
فاتح — جنوری 20، 2010 8:05 شام
واہ واہ واہ کیا خوبصورت غزل ہے محمود غزنوی صاحب! مبارکباد قبول کیجیے۔
دھندلکا یا دھندلکے "فعولن" کے وزن پر آتا ہے مگر آپ نے اسے بر وزن "فاعلن" باندھا ہے۔ نیز مقطع کے مصرع ثانی پر بھی توجہ درکار ہے۔
آبی ٹوکول — جنوری 20، 2010 8:10 شام
بہت خوب بھائی
مقطع کا مصرع ثانی میں اگر یون ہوجائے تو کیسا رہے گا ؟؟؟؟؟
محمود وہ پتھر ،جو کبھی نہ ہو سکے رام
محمد وارث — جنوری 21، 2010 11:57 صبح
اچھی غزل ہے محمود صاحب، فاتح صاحب نے نشاندہیاں کر ہی دیں :)
جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا
اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام
کیا خوبصورت شعر ہے، واہ
الف عین — جنوری 21، 2010 5:02 شام
واقعی اچھی غزل ہے، کچھ اغلاط کی نشان دہی کے بعد شاید تبدیلیاں کر دی ہیں۔
پوری غزل اس بحر میں ہے۔۔ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات
لیکن یہ مصرع
محمود وہ پتھر ،جو کبھی ہو نہ سکے رام
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
میں ہو گیا ہے، اس کو باقی اشعار کی بحر میں ڈھالنا ہے۔
محمود احمد غزنوی — جنوری 21، 2010 7:41 شام
بہت بہت شکریہ فاتح صاحب، وارث صاحب اور عابد صاحب:)۔ ۔ ۔
محمود احمد غزنوی — جنوری 21، 2010 7:46 شام
واقعی اچھی غزل ہے، کچھ اغلاط کی نشان دہی کے بعد شاید تبدیلیاں کر دی ہیں۔
پوری غزل اس بحر میں ہے۔۔ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات
لیکن یہ مصرع
محمود وہ پتھر ،جو کبھی ہو نہ سکے رام
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
میں ہو گیا ہے، اس کو باقی اشعار کی بحر میں ڈھالنا ہے۔

بہت بہت شکریہ سر۔ ۔ ۔ ۔ بحریں قابو میں نہیں آرہیں۔ ۔ ۔مقطع میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے لیکن پتہ نہیں کہ یہ درست بھی ہے کہ نہیں:
پیروں تلے پجاریوں کے آرہے ہیں اب۔ ۔ ۔ ۔
کچھ مستقل مزاج سے پتّھر نہ ہوئے رام​
الف عین — جنوری 22، 2010 5:09 شام
پیروں تلے پجاریوں کے آرہے ہیں اب۔ ۔ ۔ ۔
کچھ مستقل مزاج سے پتّھر نہ ہوئے رام
کی بجائے دوسرے مصرع میں ذرا سی تبدیلی کی ضرورت ہے
کچھ مستقل مزاج سے پتّھر ہوئے نہ رام
مغزل — جنوری 23، 2010 11:03 صبح
بہت خوب محمود صاحب، بہت عمدہ
اغلاط کی طرف نشاندہی فاتح بھیا ، وارث صاحب اور بابا جانی فرماچکے ہیں
خاکسار کی جانب سے ہدیہ مبارکبا د
گر قبول افتد زہے عز وشرف
شاہ حسین — جنوری 27، 2010 12:41 صبح
بہت خوب جناب محمود صاحب عمدہ غزل ہے ۔
الشفاء — جولائی 22، 2013 8:30 صبح
غزل
حاصل ہے ساری عمر کا اک سوزِ ناتمام
دستِ طلب میں کچھ نہیں ،بس ایک ترا نام
جس پر بہت ہی ناز کیا ہے تمام عمر۔ ۔ ۔ ۔
آخر پتہ چلا وہ محبّت تھی میری خام
جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا
اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام
سوچوں کے دھندلکے میں دکھائی نہیں دیا
پھر چھپ گیا وہ اوڑھ کے اک ملگجی سی شام
پیروں تلے پجاریوں کے آرہے ہیں اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ مستقل مزاج سے پتھر ہوئے نہ رام
واہ۔ غزنوی صاحب بہت خوب۔۔۔
آپ اس دشت کی سیّاحی کر کے جا بھی چکے۔۔۔ اور ہمیں معلوم ہی نہ ہوا۔۔۔
بہت سی داد قبول فرمائیں۔۔۔
شیزان — جولائی 22، 2013 8:46 صبح
بہت ہی عمدہ۔
یوں تو سبھی اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔۔ لیکن یہ تو دل ہی چھو گیا
جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا
اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام
احسن مرزا — جولائی 24، 2013 6:03 شام
جس پر بہت ہی ناز کیا ہے تمام عمر۔ ۔ ۔ ۔
آخر پتہ چلا وہ محبّت تھی میری خام
سوچوں کے دھندلکے میں دکھائی نہیں دیا
پھر چھپ گیا وہ اوڑھ کے اک ملگجی سی شام
واااہ! بیحد عمدہ! ڈھیروں داد جناب۔
نایاب — جولائی 24، 2013 6:14 شام
واہہہہہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب محترم غزنوی بھائی
جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا
اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام
جاسمن — جولائی 7، 2020 7:41 شام
واہ بھئی واہ۔ خوبصورت غزل۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84-%DB%81%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90-%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D9%88%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%86%D9%88%DB%8C.27953/