حد جاں سے گزرنا چاہتی ہیں

رہ وفا — نومبر 18، 2009 9:53 صبح
Hadejaanse.gif
اشتیاق علی — نومبر 18، 2009 10:09 صبح
رہ وفا محفل میں خوش آمدید۔ بہت اچھی غزل ہے۔
فاتح — نومبر 18، 2009 10:46 صبح
اٹھاؤ آفتابِ رخ سے پردہ
مری صبحیں اُترنا چاہتی ہیں
سبحان اللہ! اس خوبصورت تخلیق پر مبارک باد قبول کیجیے سجادؔ انور صاحب۔
ہم ہنوز آپ کے تعارف کے منتظر ہیں۔
شاہ حسین — نومبر 18، 2009 3:06 شام
اچھا کلام ہے محترم امید ہے اردو محفل کو آپ مزید کلام سے نوزاتے رہیں گے ۔ خوش آمدید ۔
الف عین — نومبر 18، 2009 5:33 شام
اچھا کلام ہے، لیکن تصویری شکل میں کیوں؟
ایم اے راجا — نومبر 21، 2009 7:32 شام
خوش آمدید۔
بہت خوب لاجواب
مغزل — نومبر 22، 2009 8:34 صبح
کیا کہنے جناب، واہ ، کیا عمدہ کلام ہے ’’ رہ ِ وفا ‘‘ / ’’ سجاد ‘‘ صاحب، مبارکباد قبول کیجے ۔
اداس — نومبر 22، 2009 11:58 صبح
حد جاں سے گزرنا چاہتی ہیں
امنگیں رقص کرنا چاہتی ہیں
تری یادوں‌کی چوکھٹ پر یہ آنکھیں
دیے کی طرح جلنا چاہتی ہیں
کبھی گزرو مرے دل کی گلی سے
کہ یہ راہیں سنورنا چاہتی ہیں
جو گزرے ہیں تری یادوں‌میں لمحے
وہیں‌سانسیں ٹھہرنا چاہتی ہیں
مری تنہائیاں بھی سر پھری ہیں
جدائی سے مکرنا چاہتی ہیں
اٹھاؤ آفتاب رخ سے پردہ
مری صبحیں اترنا چاہتی ہیں
چلو سجاد اس کو ڈھونڈتے ہیں
کہ امیدیں بکھرنا چاہتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

بہت خوب!
رہ وفا — نومبر 23، 2009 10:29 صبح
حوصلہ افزائی کے لئے سب دوستوں کا شکریہ
مغزل — نومبر 23، 2009 10:50 صبح
اداس آپ نے تحریر کرکے سرشار کردیا۔ بہت شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%AF-%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D9%86%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA.26655/