حسن والوں کے نام ہو جائیں

راحیل فاروق — مئی 22، 2016 9:22 صبح
حسن والوں کے نام ہو جائیں
ہم خود اپنا پیام ہو جائیں
چار ہونے پہ ان کی آنکھوں نے
طے کیا، ہم کلام ہو جائیں
حد تو یہ ہے کہ ان کے جلوے بھی
احتراماً حرام ہو جائیں
خاص لوگوں کے خاص ہونے کی
انتہا ہے کہ عام ہو جائیں
اس کی محنت حلال ہو جائے
جس کی نیندیں حرام ہو جائیں
ان کو سجدے تو کیا کریں، راحیلؔ
تذکرے صبح و شام ہو جائیں
راحیلؔ فاروق
18 ستمبر 2013ء
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 22، 2016 9:28 صبح
واہ۔ مزہ آگیا۔ بہت داد قبول ہو
سید عاطف علی — مئی 22، 2016 9:29 صبح
واہ راحیل ۔ بھائی بہت خوب
کاشف اختر — مئی 22، 2016 9:43 صبح
چار ہونے پہ ان کی آنکھوں نے
طے کیا، ہم کلام ہو جائیں
حد تو یہ ہے کہ ان کے جلوے بھی
احتراماً حرام ہو جائیں

لاجواب راحیل بھائی!
صفی حیدر — مئی 22، 2016 9:47 صبح
لا جواب ۔۔ بے مثال تخلیق ۔۔۔۔۔
حمیرا عدنان — مئی 22، 2016 9:48 صبح
بہت عمدہ راحیل بھائی
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 22، 2016 10:21 صبح
راحیل فاروق بھائی کی خوبصورت غزل کا تیا پانچہ
برقع والوں کے نام ہو جائیں
ہم خود اپنا پیام ہو جائیں
چار ہونے پہ ان کی آنکھوں نے
طے کیا، بے نیام ہو جائیں
پسِ پردہ جب ان کے جلوے بھی
واجب الاحترام ہو جائیں
پردہ اٹھے ہوا کے جھونکوں سے
آنکھوں آنکھوں سلام ہوجائیں
دیکھ کاجل بس ان کی آنکھوں کا
اپنی نیندیں حرام ہو جائیں
ان کے جلووں پہ تبصرے ہوں خلیل
تذکرے جب تمام ہو جائیں
محمد تابش صدیقی — مئی 22، 2016 10:23 صبح
بہت اعلیٰ راحیل بھائی
حد تو یہ ہے کہ ان کے جلوے بھی
احتراماً حرام ہو جائیں
یہ تو ہمارے معاشرے میں منگنی کے بعد ہوتا ہے۔ :p
خاص لوگوں کے خاص ہونے کی
انتہا ہے کہ عام ہو جائیں
بہت ہی عمدہ بات کہہ دی ہے۔
اس کی محنت حلال ہو جائے
جس کی نیندیں حرام ہو جائیں
کیا کہنے
عبدالوہاب سخن — مئی 22، 2016 10:26 صبح
بہت خوب زبانکی چاشنی سے بھرپور غزل۔۔محترم واہ واہ
کاشف اسرار احمد — مئی 22، 2016 10:29 صبح
واہ راحیل بھائی !
ایک نہایت خوبصورت اور بہترین غزل کے لئے مبارکباد قبول کریں۔
یوں تو پوری غزل عمدہ ہے لیکن یہ اشعار آپ کے قلم سے نکلے اور میرے دل تک پہنچے !
چار ہونے پہ ان کی آنکھوں نے
طے کیا، ہم کلام ہو جائیں

کیا ہی خوبصورت منظر نگاری ہے ! واہ
حد تو یہ ہے کہ ان کے جلوے بھی
احتراماً حرام ہو جائیں

معاذ اللہ !:LOL:
خاص لوگوں کے خاص ہونے کی
انتہا ہے کہ عام ہو جائیں
بہت خوب !
اس کی محنت حلال ہو جائے
جس کی نیندیں حرام ہو جائیں
بہترین ! واہ ۔ کس خوبصورتی سے سچّائی بیان کر دی ہے !ماشا اللہ۔
سید عاطف علی — مئی 22، 2016 10:36 صبح
تیا پانچہ - بھی خوب ہے خلیل بھائی۔ رگ پھڑکتے دیر نہیں لگتی ۔
لاریب مرزا — مئی 22، 2016 10:47 صبح
بہت خوب غزل کہی!!
ابن رضا — مئی 22، 2016 10:53 صبح
بہت خوب!!!
محمد ریحان قریشی — مئی 22، 2016 11:05 صبح
شاندار غزل ہے راحیل بھائی۔
یاز — مئی 22، 2016 11:31 صبح
خاص لوگوں کے خاص ہونے کی
انتہا ہے کہ عام ہو جائیں

بہت خوب جناب۔ کیا کمال شاعری ہے۔ سادہ طرزِ بیاں میں گہری باتیں کہتی غزل۔
ابن رضا — مئی 22، 2016 12:17 شام
راحیل فاروق بھائی کی خوبصورت غزل کا تیا پانچہ
برقع والوں کے نام ہو جائیں
ہم خود اپنا پیام ہو جائیں
چار ہونے پہ ان کی آنکھوں نے
طے کیا، بے نیام ہو جائیں
پسِ پردہ جب ان کے جلوے بھی
واجب الاحترام ہو جائیں
پردہ اٹھے ہوا کے جھونکوں سے
آنکھوں آنکھوں سلام ہوجائیں
دیکھ کاجل بس ان کی آنکھوں کا
اپنی نیندیں حرام ہو جائیں
ان کے جلووں پہ تبصرے ہوں خلیل
تذکرے جب تمام ہو جائیں
کچھ تیا پانچہ ادھر بھی

وہ جو زوجہ کے نام ہو جائیں
اُُن کے قصے تمام ہو جائیں
اب تو ہر دم یہی تمنا ہے
سارے شوہر غلام ہو جائیں
حد تو یہ ہے کہ ان کے ہونے سے
سب کی نیندیں حرام ہو جائیں
آج اس نے کہا ہے لَوٹے گی
کاش رستے ہی جام ہو جائیں
جس کی بیگم نواب ہو جائے
اس کی نیندیں حرام ہو جائیں
ابھی اتری نہیں ہے سُوجھن بھی
پھر نہ وہ ہم کلام ہو جائیں
جاسمن — مئی 22، 2016 12:52 شام
بہت خوبصورت۔حسین ترین۔ہر شعر نگینہ۔۔۔موتی۔۔۔لعل۔۔۔ہیرا۔۔۔۔چاند۔۔۔
دعاؤں بھری داد۔
بہت خوب،بہت ہی خوب!
زبردست پہ زبر ہی زبر۔۔۔۔۔۔۔
یوسف سلطان — مئی 22، 2016 2:50 شام
خاص لوگوں کے خاص ہونے کی
انتہا ہے کہ عام ہو جائیں
اس کی محنت حلال ہو جائے
جس کی نیندیں حرام ہو جائیں
بہت ہی اعلی
راحیل فاروق بھائی کی خوبصورت غزل کا تیا پانچہ
برقع والوں کے نام ہو جائیں
ہم خود اپنا پیام ہو جائیں
چار ہونے پہ ان کی آنکھوں نے
طے کیا، بے نیام ہو جائیں
پسِ پردہ جب ان کے جلوے بھی
واجب الاحترام ہو جائیں
پردہ اٹھے ہوا کے جھونکوں سے
آنکھوں آنکھوں سلام ہوجائیں
دیکھ کاجل بس ان کی آنکھوں کا
اپنی نیندیں حرام ہو جائیں
ان کے جلووں پہ تبصرے ہوں خلیل
تذکرے جب تمام ہو جائیں
بہت خوب :lol:
اب تو ہر دم یہی تمنا ہے
سارے شوہر غلام ہو جائیں
آج اس نے کہا ہے لَوٹے گی
کاش رستے ہی جام ہو جائیں
ابھی اتری نہیں ہے سُوجن بھی
پھر نہ وہ ہم کلام ہو جائیں
:laughing::laughing:
بہت عمدہ
عباد اللہ — مئی 22، 2016 3:24 شام
حضرتِ داغ کا سا جلوہ ہم
اپنے راحیل جی میں دیکھتے ہیں!!!:)
گلزار خان — مئی 22، 2016 3:49 شام
راحیل فاروق بھائی کیا کہنے آپ کے :):)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%DB%81%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA.90022/