حصولِ اقلیمِ تخئیل

عاطف بٹ — فروری 9، 2014 12:35 شام
'سنا ہے میری سلمیٰ رات کو آئے گی وادی میں'
اور وہ رات مرے واسطے اک صبحِ درخشاں کی پیمبر ہوگی
ہاں وہی صبح جو ماتھے سے مرے
ہجر کے داغ، جدائی کے الم دھوئے گی
میری سلمیٰ، مری جاں، میری رفیق
خود کو ہولے سے مری بانہوں میں جب کھوئے گی
اُس کے کھونے سے میں پا جاؤں گا اِس زیست کے سارے اسرار
یہی اسرار کی تفہیم مجھے بخشے گی
ہجر اور وصل کے قضیوں سے نجات
اور میں پاؤں گا عرفان کا وہ آبِ حیات
جس کے پینے سے مری روح دمک اٹھے گی
اور یوں
میری سلمیٰ، مری جاں، میری رفیق
اپنے احساس سے تکمیل مری کردے گی
مجھ کو تخئیل کی اقلیم عطا کردے گی
(عاطف خالد بٹ)
سید ذیشان — فروری 9، 2014 12:41 شام
بہت خوب!
عاطف بٹ — فروری 9، 2014 12:42 شام
بہت شکریہ ذیشان بھائی
سید ذیشان — فروری 9، 2014 12:44 شام
ویسے اس کی بحر کیا ہے؟ پہلی لائن مجھے کسی اور بحر میں لگ رہی ہے؟ کیا ایسا ہی ہے؟
عاطف بٹ — فروری 9، 2014 12:45 شام
ویسے اس کی بحر کیا ہے؟ پہلی لائن مجھے کسی اور بحر میں لگ رہی ہے؟ کیا ایسا ہی ہے؟
جی، ایسا ہی ہے۔ یہ پوری طرح بحر کے تابع نہیں ہے!
عاطف بٹ — فروری 9، 2014 12:52 شام
ویسے پہلا مصرعہ تو اختر شیرانی کی مشہور نظم 'سنا ہے میری سلمیٰ رات کو آئے گی وادی میں' سے لیا گیا ہے۔
سید ذیشان — فروری 9، 2014 1:02 شام
پہلا مصرع مفاعیلن کی تکرار ہے۔
باقی مصرعے اس بحر پر ہیں: فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن یا فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعلن
عاطف بٹ — فروری 9، 2014 1:13 شام
پہلا مصرع مفاعیلن کی تکرار ہے۔
باقی مصرعے اس بحر پر ہیں: فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن یا فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعلن
جی، پہلا مصرعہ بحرِ ہزج مثمن سالم سے متعلق ہے۔ یہ بحر کئی شعراء کو بہت مرغوب تھی۔ حفیظ جالندھری کے ہاں بھی بہت استعمال ہوئی ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84%D9%90-%D8%A7%D9%82%D9%84%DB%8C%D9%85%D9%90-%D8%AA%D8%AE%D8%A6%DB%8C%D9%84.71965/