فرحان محمد خان — ستمبر 17، 2018 7:56 صبح
غزل
خاموش ہیں ششدر ہیں پریشان بہت ہیں
کیوں کر نہ ہوں دل ایک ہے ارمان بہت ہیں
ایسا یہاں کوئی نہیں اپنا جسے کہتے
یوں شہر میں کہنے کو تو انسان بہت ہیں
افسوس کہ ایمان کی بو تک نہیں آتی
یہ بات الگ صاحبِ ایمان بہت ہیں
کچھ علم کی دولت بھی عطا کر انھیں مولا
کہنے کو یہاں صاحبِ عرفان بہت ہیں
اخلاق و محبت سے یہ محروم ہے کیسے؟
اس شہر میں سنتے ہیں مسلمان بہت ہیں
لیتے نہیں ہم لوگ سبق اس سے کوئی بھی
قرآن میں حکمت کے تو فرمان بہت ہیں
بس میرؔ کا دیوان ہے گنجینۂ معنی
یوں شہر کی دکانوں پہ دیوان بہت ہیں
فرحان محمد خان
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 17، 2018 8:01 صبح
زبردست فرحان بھائی ۔
عمدہ غزل ہے ۔
نوشاب — ستمبر 17، 2018 10:29 صبح
بہت خوب
الف عین — ستمبر 17، 2018 11:02 صبح
خوب غزل ہے ماشاءاللہ
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 17، 2018 6:48 شام
واہ ! بہت خوب فرحان بھائی ۔ اچھے اشعار ہیں ۔ بہت داد آپ کے لئے !
اخلاق و محبت والے مصرع میں ہے کو ہیں کرلیجئے۔ اور آخری شعر کا دوسرا مصرع ایک نظر دیکھ لیجئے ۔ وزن کا مسئلہ ہے ۔
محمد ریحان قریشی — ستمبر 17، 2018 6:53 شام
آخری شعر کا دوسرا مصرع ایک نظر دیکھ لیجئے ۔ وزن کا مسئلہ ہے ۔
مجھے تو درست معلوم ہوتا ہے۔ دکان کا اصل تلفظ ک مشدد کے ساتھ ہی ہے۔
ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں
یہ کارگاہ ساری دکانِ شیشہ گر ہے
میر تقی میؔر
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 17، 2018 7:33 شام
مجھے تو درست معلوم ہوتا ہے۔ دکان کا اصل تلفظ ک مشدد کے ساتھ ہی ہے۔
ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں
یہ کارگاہ ساری دکانِ شیشہ گر ہے
میر تقی میؔر
یہ تلفظ اب اردو میں متروک ہے۔ دکان بروزن مکان فصیح ہے ۔
فہد اشرف — ستمبر 17، 2018 7:40 شام
یہ تلفظ اب اردو میں متروک ہے۔ دکان بروزن مکان فصیح ہے ۔
اور دوکان
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 17، 2018 7:48 شام
فہد بھائی ، دوکان لکھنا درست نہیں ۔ اصل عربی میں دکّان تھا لیکن فارسیوں نے دکان استعمال کیا اور نون غنے کے ساتھ دکاں بھی استعمال کیا ۔ وہیں سے اردو میں آیا ۔ دکان اور دکاں درست ہیں ۔ دکّان لکھنا اور بولنا اب درست نہیں ۔ متروک ہے۔ دوچار قدیم شعراء نے اس طرح استعمال کیا ہو تو ہو۔ اب متروک ہوگیا ہے ۔
فرحان محمد خان — ستمبر 18، 2018 5:20 صبح
زبردست فرحان بھائی ۔
عمدہ غزل ہے ۔
نوازش بھیا
شکریہ
فرحان محمد خان — ستمبر 18، 2018 5:22 صبح
فرحان محمد خان — ستمبر 18، 2018 5:26 صبح
واہ ! بہت خوب فرحان بھائی ۔ اچھے اشعار ہیں ۔ بہت داد آپ کے لئے !
اخلاق و محبت والے مصرع میں ہے کو ہیں کرلیجئے۔ اور آخری شعر کا دوسرا مصرع ایک نظر دیکھ لیجئے ۔ وزن کا مسئلہ ہے ۔
شکریہ سر
یہ تلفظ اب اردو میں متروک ہے۔ دکان بروزن مکان فصیح ہے ۔
معلوماتی
فرحان محمد خان — ستمبر 18، 2018 11:22 صبح
مجھے تو درست معلوم ہوتا ہے۔ دکان کا اصل تلفظ ک مشدد کے ساتھ ہی ہے۔
ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں
یہ کارگاہ ساری دکانِ شیشہ گر ہے
میر تقی میؔر
بے حد ممنون ہوں بھائی
فرحان محمد خان — اکتوبر 21، 2018 6:36 شام
غزل
خاموش ہیں ششدر ہیں پریشان بہت ہیں
کیوں کر نہ ہوں دل ایک ہے ارمان بہت ہیں
فرحان محمد خان
توارد
بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں
کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں
نصیر الدین نصیر گیلانی
ساجد حسن جرال — اکتوبر 21، 2018 7:13 شام
بہت خوب جناب
انیس جان — اکتوبر 22، 2018 6:37 صبح
مطلع تو مجھے خاص سرقہ کا لگ رہا ہے
خالد محمود چوہدری — اکتوبر 22، 2018 6:41 صبح
بہت خوب ماشاءاللہ
یاسر شاہ — اکتوبر 22، 2018 7:00 صبح
اچھی غزل ہے فرحان بھائی -
انیس بھائی یہ سرقہ نہیں توارد ہے -دراصل یہ مطلع مطالعے کی دین ہے- یاد داشت (long term memory) سے کاغذ پہ منتقل ہوگیا-
اس حوالے سے یہ مضمون پڑھنے لائق ہے :
Sarwar Alam Raz Sarwar -- Articles | ادبی مضامیناس مطلع کو نکال دیں غزل سے -
انیس جان — اکتوبر 22، 2018 7:42 صبح
آپ کی بات ٹھیک ہے یاسر بھائی لیکن فرحان بھائی کو چاہیے کہ مطلع کو تھوڑا سا ادھر اُدھر کردیں
ورنہ میرے جیسے کم فہم لوگ اس کو سرقہ سمجھیں گے
فرحان محمد خان — اکتوبر 22، 2018 11:48 صبح
آپ کی بات ٹھیک ہے یاسر بھائی لیکن فرحان بھائی کو چاہیے کہ مطلع کو تھوڑا سا ادھر اُدھر کردیں
ورنہ میرے جیسے کم فہم لوگ اس کو سرقہ سمجھیں گے
بھائی تھوڑا ادھر اُدھر نہیں ان شاء اللہ مکمل تبدیل کروں گا