نور وجدان — اگست 4، 2018 9:13 صبح
محترم اساتذہ کرام کی اصلاح کے بعد
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
بحر کو کوئی کنارا تو ملے
دیپ الفت کےتو جلنے ہیں سدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
پھول کھلتے ہیں، صبا چلتی ہے
اس جنوں میں بھی خسارہ تو ملے
زخمِ دِل اُن کو دکھائیں بھی تو کیوں!
حشر برپا ہے ، کنارا تو ملے
جب دوا نورؔ نہ کام آئی کوئی
زہر دو! کوئی سہارا تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں سدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
مے کشوں کو تو اجل مست کرے
ماہ کے رخ کا اشارہ تو ملے!
جب ملے خاکِ نجف کا سُرمہ
وصل ہو میرا !وہ پیارا تو ملے
حمیرا عدنان — اگست 4، 2018 10:04 صبح
جب ملے خاکِ نجف کا سُرمہ
وصل ہو میرا !وہ پیارا تو ملے
واہ بہت خوب
نور وجدان — اگست 4، 2018 6:22 شام
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 4، 2018 6:26 شام
مزیدار!
ام اویس — اگست 4، 2018 6:33 شام
واہ واہ
بہت خوب ، عمدہ
نور وجدان — اگست 5، 2018 4:38 صبح
پسند آوری کے اس دلچسپ انداز پر شکریہ
آداب عرض ہے
الف عین — اگست 5، 2018 5:20 صبح
اچھی غزل ہے۔ اس کی اصلاح ہو چکی؟ آخری شعر سمجھ میں بھی نہیں ایا، اور
رخ ترے سے وہ نظارہ تو ملے
کو
تیرے رخ سے وہ نظارہ تو ملے
نہیں ہو سکتا؟
نور وجدان — اگست 5، 2018 5:57 صبح
اچھی غزل ہے۔ اس کی اصلاح ہو چکی؟ آخری شعر سمجھ میں بھی نہیں ایا، اور
رخ ترے سے وہ نظارہ تو ملے
کو
تیرے رخ سے وہ نظارہ تو ملے
نہیں ہو سکتا؟
بہت بہت شکریہ استاد محترم
اصلاح تو ہوچکی ہے، آخری شعر نکال دیتی ہوں
حاجی حنیف — جنوری 9، 2019 9:09 صبح
بہن نورسعدیہ
آپ کی غزل ابھی دیکھی ہے
ماشاء اللہ خوب اشعار ہیں
دو اشعار میں لفظ صدا استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ یہاں پر کس معنی میں ہے۔
براہ مہربانی سمجھا کر احسان عظیم فرمائیں۔
دیپ الفت کےتو جلنے ہیں صدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں صدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
نور وجدان — جنوری 10، 2019 11:03 صبح
بہن نورسعدیہ
آپ کی غزل ابھی دیکھی ہے
ماشاء اللہ خوب اشعار ہیں
دو اشعار میں لفظ صدا استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ یہاں پر کس معنی میں ہے۔
براہ مہربانی سمجھا کر احسان عظیم فرمائیں۔
دیپ الفت کےتو جلنے ہیں صدا
رات کو کوئی ستارہ تو ملے
حق کا نعرہ میں لگاتی ہوں صدا
دل جلے! مجھ کو کنارا تو ملے
احسان صغیر کے بارے میں کٰیا خیال ہے؟ میں نے اسکی درستی کردی ہے ، یہ سدا ہے