ناعمہ عزیز — جنوری 10، 2016 8:06 صبح
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں لڑکی
جسے تعبیر پانے کی ہوس میں پار کر لو تم
یہ دنیا اک تماشائی
مسلسل آبلہ پائی
کہ جس پر چلتے پاؤں درد کی جنت کو چھوتے ہیں
یقین و بے یقینی ہی کچل دیتی ہے سر ان کے
یہاں پر آنکھ میں جن کی بہت سے خواب ہوتے ہیں
محبت درد دیتی ہے تو نفرت سیج ہے ایسی
کہ جس کی رہ گزر میں ہر قدم پر خار ہوتے ہیں
مگر تم حوصلہ رکھنا
وفا کا سلسلہ رکھنا
یہ آنکھیں خواب کا گھر ہیں
مگر تم خواب مت بُننا
کہ سارے خواب آنکھوں میں
ہی سانسیں توڑ جاتے ہیں
انہیں تعبیر ملنے کی کوئی امید مت رکھنا
انہی خوابوں کی تم نے کرچیاں پلکوں سے چننی ہیں
سنو لڑکی!
خوشی بانٹو
ہنسی کے رنگ بکھراؤ
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں جس کو
کسی کچے گھڑے پر پار کر پاؤ۔
ناعمہ عزیز
نایاب — جنوری 10، 2016 8:13 صبح
واہہہہہہہہہہ
بہت خوبصورت نظم
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
سنو لڑکی!
خوشی بانٹو
ہنسی کے رنگ بکھراؤ
یہ دنیا خواب کا دریا نہیں جس کو
کسی کچے گھڑے پر پار کر پاؤ۔
سارہ خان — جنوری 10، 2016 8:15 صبح
دل کو چھونے والے الفاظ ۔۔
ویل ڈن

نیرنگ خیال — جنوری 10، 2016 8:16 صبح
بہت عمدہ اور اعلیٰ۔۔۔ زبردست
محمد تابش صدیقی — جنوری 10، 2016 8:21 صبح
بہت خوبصورت اور احساسات سے بھرپور نظم۔
بہت سی داد
فاتح — جنوری 10، 2016 8:22 صبح
واہ واہ واہ جتنی تعریف کی جائے اتنی ہی کم ہے۔ الفاظ کی بنت اتنی خوبصورت ہے کہ حسد محسوس ہو تا ہے۔ قاری نظم کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔ اس خوبصورت تخلیق پر ڈھیروں مبارک باد!
ادب دوست — جنوری 10، 2016 8:29 صبح
واہ واہ
ناعمہ عزیز ، بہت ہی اچھی نظم ہے
بہت بہت داد قبول کیجئے۔
اس مصرع کو دیکھیں لیجئے گا۔
انہیں خوابوں کی ہم نے کرچیاں پلکوں سے چننی ہیں
ناعمہ عزیز — جنوری 10، 2016 8:35 صبح
واہ واہ
ناعمہ عزیز ، بہت ہی اچھی نظم ہے
بہت بہت داد قبول کیجئے۔
اس مصرع کو دیکھیں لیجئے گا۔
شکریہ۔۔۔
میں اس کی تدوین پہلے ہی کر چکی تھی۔ شاید میرے تدوین کرنے کے دوران آپ نے اقتباس لیا۔
ادب دوست — جنوری 10، 2016 8:39 صبح
شکریہ۔۔۔
میں اس کی تدوین پہلے ہی کر چکی تھی۔ شاید میرے تدوین کرنے کے دوران آپ نے اقتباس لیا۔
جی درست،
اب اس والی سطر کو دیکھ لیجئے گا ،
انہیں خوابوں کی تم نے کرچیاں پلکوں سے چننی ہیں
درا صل " ہم نے، تم نے" ماضی سے متعلق درست ہیں، حال میں " ہمیں، تمہیں" مناسب ہے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 10، 2016 8:45 صبح
جی درست،
اب اس والی سطر کو دیکھ لیجئے گا ،

درا صل " ہم نے، تم نے" ماضی سے متعلق درست ہیں، حال میں " ہمیں، تمہیں" مناسب ہے۔
انہیں کی جگہ بھی انہی مناسب نہ ہو گا؟
ناعمہ عزیز — جنوری 10، 2016 8:57 صبح
انہیں کی جگہ بھی انہی مناسب نہ ہو گا؟
بجا فرمایا آپ نے۔ میں نے ٹائپنگ میں غلطی کی۔
ناعمہ عزیز — جنوری 10، 2016 8:58 صبح
جی درست،
اب اس والی سطر کو دیکھ لیجئے گا ،

درا صل " ہم نے، تم نے" ماضی سے متعلق درست ہیں، حال میں " ہمیں، تمہیں" مناسب ہے۔
نشاندہی کا شکریہ۔ اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
سیدہ شگفتہ — جنوری 10، 2016 9:04 صبح
واہ!
نور وجدان — جنوری 10، 2016 9:12 صبح
بہت خُوب
ادب دوست — جنوری 10، 2016 9:18 صبح
انہیں کی جگہ بھی انہی مناسب نہ ہو گا؟
محمد تابش صدیقی بھائی، یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کا اشارہ کس طرف تھا، مگر جب
فاتح بھائی، نے متفق کردیا تو ہم نے بھی کر دیا ۔


محمد تابش صدیقی — جنوری 10، 2016 9:42 صبح
محمد تابش صدیقی بھائی، یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کا اشارہ کس طرف تھا، مگر جب
فاتح بھائی، نے متفق کردیا تو ہم نے بھی کر دیا ۔

اشارہ اسی مصرع کے پہلے لفظ کی طرف تھا، جو اب بہن نے درست کر دیا ہے۔

لاریب مرزا — جنوری 10، 2016 9:48 صبح
سنو لڑکی!
خوشی بانٹو
ہنسی کے رنگ بکھراؤ
بہت خوب لکھا ناعمہ بہنا! ہر لفظ دل کو چھوتا ہوا محسوس ہوا..

اتنی اعلیٰ کاوش پہ ڈھیروں داد قبولیے..

حمیرا عدنان — جنوری 10، 2016 10:07 صبح
بہت خوب سس ماشاءاللہ

ابن رضا — جنوری 10، 2016 10:21 صبح
بہت خوب
ناعمہ عزیز — جنوری 10، 2016 11:22 صبح
واہہہہہہہہہہ
بہت خوبصورت نظم
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
ممنون ہوں لالہ۔