خود فریبی کے نئے کچھ تو بہانے ڈھونڈیں

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 4:47 شام

خود فریبی کے نئے کچھ تو بہانے ڈھونڈیں
اُس کی الفت کے علاوہ بھی ٹھکانے ڈھونڈیں
گذری صدیوں کو گذارے چلے جائیں کب تک
چھوڑ کر ماضی چلو اور زمانے ڈھونڈیں
ہم کسی اور ہی اندازِ محبت کے ہیں لوگ
تازہ رشتوں میں بھی اقرار پرانے ڈھونڈیں
دل پہ مت لینا کہ لوگوں کی تو باتیں یوں ہیں
جیسے اُڑتے ہوئے کچھ تیر نشانے ڈھونڈیں
ڈار سے بچھڑے پرندوں کو نہیں معلوم اب
رزق ڈھونڈیں یا بسیرے کے ٹھکانے ڈھونڈیں
پھر کسی شام چلو یاد کے جنگل میں ظہیر
ہم نے جو دفن کئے تھے وہ خزانے ڈھونڈیں
۔۔۔۔۔ ۲۰۰۴۔۔۔۔۔۔۔۔​
محمد تابش صدیقی — دسمبر 22، 2015 5:13 شام
دل پہ مت لینا کہ لوگوں کی تو باتیں یوں ہیں
جیسے اُڑتے ہوئے کچھ تیر نشانے ڈھونڈیں
بہت خوب
کاشف اختر — دسمبر 23، 2015 12:40 شام
بہت زبردست ماشاء اللہ
فاتح — دسمبر 23، 2015 12:52 شام
چھوڑ کر ماضی چلو اور زمانے ڈھونڈیں
ہائے ہائے کیا کہنے جناب
حمیرا عدنان — دسمبر 23، 2015 2:34 شام
واہہہہہہ بھائی کیا خوب کہا ہے
الف عین — دسمبر 23، 2015 4:43 شام
خوب حالانکہ دس سال سے زیادہ پرانی غزل ہے، جب آتش جوان تھا!
افضل حسین — دسمبر 23، 2015 4:53 شام
بہت خوب
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 5:59 شام

بہت زبردست ماشاء اللہ

چھوڑ کر ماضی چلو اور زمانے ڈھونڈیں
ہائے ہائے کیا کہنے جناب

واہہہہہہ بھائی کیا خوب کہا ہے


بہت بہت نوازش ! بہت شکریہ! بہت دل بڑھایا ہے آپ نے۔ خدا آپ سب کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 6:04 شام
خوب حالانکہ دس سال سے زیادہ پرانی غزل ہے، جب آتش جوان تھا!
اعجاز بھائی ، یہ کوئی اتنی فاسقانہ تو نہیں ہے ۔ :):):) ۔ ویسے آتش تو اب بھی کبھی کبھی بھڑک ہی اٹھتی ہے ۔ اب تو ڈر لگ رہا ہےکچھ غزلیں لگاتے ہوئے ۔ :)
جاسمن — جولائی 15، 2025 3:31 شام
ڈار سے بچھڑے پرندوں کو نہیں معلوم اب
رزق ڈھونڈیں یا بسیرے کے ٹھکانے ڈھونڈیں
بہت ہی خوبصورت اشعار۔
حسین ترین غزل۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔ :)
نیرنگ خیال — جولائی 15، 2025 3:48 شام

خود فریبی کے نئے کچھ تو بہانے ڈھونڈیں
اُس کی الفت کے علاوہ بھی ٹھکانے ڈھونڈیں
گذری صدیوں کو گذارے چلے جائیں کب تک
چھوڑ کر ماضی چلو اور زمانے ڈھونڈیں
ہم کسی اور ہی اندازِ محبت کے ہیں لوگ
تازہ رشتوں میں بھی اقرار پرانے ڈھونڈیں
دل پہ مت لینا کہ لوگوں کی تو باتیں یوں ہیں
جیسے اُڑتے ہوئے کچھ تیر نشانے ڈھونڈیں
ڈار سے بچھڑے پرندوں کو نہیں معلوم اب
رزق ڈھونڈیں یا بسیرے کے ٹھکانے ڈھونڈیں
پھر کسی شام چلو یاد کے جنگل میں ظہیر
ہم نے جو دفن کئے تھے وہ خزانے ڈھونڈیں
۔۔۔۔۔ ۲۰۰۴۔۔۔۔۔۔۔۔​
کیا ہی لاجواب غزل ہے۔۔۔ اعلی
ظہیراحمدظہیر — جولائی 17، 2025 6:19 شام
بہت ہی خوبصورت اشعار۔
حسین ترین غزل۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔ :)
بہت بہت شکریہ ، خواہرم جاسمن! اللہ الکریم آپ کو خوش رکھے۔ سلامت رہیں !
لگتا ہے آپ پھر پرانے دھاگوں میں جا جا کر پرانی شاعری پڑھ رہی ہیں ۔ دیکھتے ہیں اب اور کیا کیا ڈوبی ہوئی چیزیں سطح پر آکر تیرتی ہیں۔ :)
ظہیراحمدظہیر — جولائی 17، 2025 6:20 شام
کیا ہی لاجواب غزل ہے۔۔۔ اعلی
بہت شکریہ ، نین بھائی !
خوش رہیں ، سلامت رہیں ، خوب آم کھائیں اور کھلائیں !
نیرنگ خیال — جولائی 20، 2025 1:28 شام
بہت شکریہ ، نین بھائی !
خوش رہیں ، سلامت رہیں ، خوب آم کھائیں اور کھلائیں !
آموں کے موسم
تم کو یاد کرنے کی
عادتیں پرانی ہیں
اس برس سوچا ہے عادتیں بدل ڈالیں
پھر خیال آیا کہ
عادتیں بدلنے سے
آم چھٹ نہ جائیں کہیں۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A6%DB%92-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%DB%8C%DA%BA.86594/