خوشی کے سرخ پھول

F@rzana — نومبر 8، 2006 4:17 شام
گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں جہاں وہ چاند رہتا تھا
جہاں پر خواب نیلی چاندنی میں رقص کرتے تھے
جہاں تم میری آنکھوں میں سویرے کو بچھاتے تھے
وہاں اب آنے والی تتلیوں کے پر بکھرتے ہیں
وہیں اڑتے ہوئے پنچھی،
عجب سی باوری دھن میں
ٹھٹھک کر رکنے لگتے ہیں
دھواں اٹھتا ہے اس گھر سے
میں اب بھی جس کی پہلی اینٹ کا گارا بناتی ہوں
میں اپنی راکھ میں چہرے لیئے آنسو ملاتی ہوں
نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں،
مگر یہ کون دیکھے گا
ہوا کے جھونکے جب مجھ کو تری آہٹ سناتے ہیں
میں غالیچہ بچھاتی ہوں، سلگتے ہجر کے اوپر
تمہاری خوش امیدی کا
کئی صدیوں میں جب وہ ایک لمحہ لوٹ آئے گا
مجھے اجلے ستاروں میں سجاؤگے ہتھیلی پر
مجھے جس روز اپنے ہاتھ سے لکھوگے پتھر پر
میں تم کو ریت پر لکھنے ہوا کے ساتھ جاؤں گی
خوشی کے سرخ پھولوں کو میں جاکر نوچ آؤں گی۔۔۔!!!
جاویداقبال — نومبر 8، 2006 4:22 شام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں،
مگر یہ کون دیکھے گا؟​

بہت خوب۔ بہت اچھے :great:
والسلام
جاویداقبال
قیصرانی — نومبر 8، 2006 4:46 شام
میں تم کو ریت پر لکھنے ہوا کے ساتھ جاؤں گی
خوشی کے سرخ پھولوں کو میں جاکر نوچ آؤں گی۔۔۔!!!​
بہت خوب، اب ذرا کچھ مزید بھی تو عطا کریں نا‌:)
شمشاد — نومبر 8، 2006 5:04 شام
چلیں اسی بہانے آپ محفل میں آئیں تو۔
فیضان الحسن — نومبر 8، 2006 5:09 شام
نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیابنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبہ دل
اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
سلام قیصرانی بھائی اور دیگر دوستا ن محفل کیا چل رہا ہے یہاں
شمشاد — نومبر 8، 2006 5:22 شام
اب ہم کیا بتائیں، شروع سے پڑھ لیں خود ہی سمجھ آ جائے گی۔
تیشہ — نومبر 9، 2006 10:24 شام
F@rzana نے کہا:
گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں جہاں وہ چاند رہتا تھا
جہاں پر خواب نیلی چاندنی میں رقص کرتے تھے
جہاں تم میری آنکھوں میں سویرے کو بچھاتے تھے
وہاں اب آنے والی تتلیوں کے پر بکھرتے ہیں
وہیں اڑتے ہوئے پنچھی،
عجب سی باوری دھن میں
ٹھٹھک کر رکنے لگتے ہیں
دھواں اٹھتا ہے اس گھر سے
میں اب بھی جس کی پہلی اینٹ کا گارا بناتی ہوں
میں اپنی راکھ میں چہرے لیئے آنسو ملاتی ہوں
نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں،
مگر یہ کون دیکھے گا
ہوا کے جھونکے جب مجھ کو تری آہٹ سناتے ہیں
میں غالیچہ بچھاتی ہوں، سلگتے ہجر کے اوپر
تمہاری خوش امیدی کا
کئی صدیوں میں جب وہ ایک لمحہ لوٹ آئے گا
مجھے اجلے ستاروں میں سجاؤگے ہتھیلی پر
مجھے جس روز اپنے ہاتھ سے لکھوگے پتھر پر
میں تم کو ریت پر لکھنے ہوا کے ساتھ جاؤں گی
خوشی کے سرخ پھولوں کو میں جاکر نوچ آؤں گی۔۔۔!!!

واؤ ، بہت خوب سہیلی ، بہت ہی خوبصورت شاعری۔
:great:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%B1%D8%AE-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84.4616/