محمود احمد غزنوی — ستمبر 3، 2009 7:41 صبح
دائرے کا سفر
مانا کہ راحتیں نہیں،
پر چاہتیں تو ہوں۔ ۔ ۔ ۔
گر منزلیں نہیں ، نہ سہی
راستے تو ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ کیا کہ ہم اہلِ مہر و وفا۔ ۔ ۔ ۔
ایک خاموش چاہت کی ناوء لئے
دل پہ مہر و محبّت کے گھاوء لئے
سینے میں اک دہکتا الاوء لئے۔ ۔ ۔
بس سلگتے رہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
گردابِ تمنّا میں لہروں کے سنگ
رقص کرتے رہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دائرے میں یونہی۔ ۔ ۔ ۔
سفر کرتے رہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر آخرش، ڈوبیں کچھ اس طرح
کہ تجھے بھی خبر نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محمود احمد غزنوی — ستمبر 3، 2009 10:18 صبح
یہ مری سب سے پہلی نظم تھی۔
mfdarvesh — ستمبر 3، 2009 11:11 صبح
بہت خوب، شکریہ
الف عین — ستمبر 3، 2009 6:25 شام
تو اب تو اس کی اصلاح خود ہی کر سکتے ہو اگر یہ پہلی نظم تھی تو۔۔ کیا تب ہی کی لکھی ہوئی ہے؟ تازہ لکھی ہوتی تو ’ؤ‘ درست لکھی ہوتی، اس میں وہی ’وء‘ لکھی ہے۔
بہر حال حسب معمول کچھ مصرعے ایک بحر میں ہیں، کچھ دوسری میں۔ اگر کسی بحر میں نہ ہوتے تو نثری نظم شمشار کی جا سکےی تھی۔
مغزل — ستمبر 4، 2009 7:52 صبح
اچھی کوشش ہے محمود غزنوی صاحب، بہت شکریہ پیش کرنے کو