داغ کی زمین میں ایک غزل

ارشد رشید — جون 5، 2023 9:09 شام
غزل
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا اثر دیکھ رہے ہیں
کاندھوں پہ نہیں زانو پہ سر دیکھ رہے ہیں
مد ہم سے ہوے اس کے خط و خال خود اس میں
یا ہم اسے با دیدہِ تر دیکھ رہے ہیں
دُزدیدہ نگاہی سے سہی پر سرِ محفل
ہم دیکھ رہے ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
منزل کا پتہ بھی ہے تو رستہ بھی ہے معلوم
پھر لوگ خدا جانے کدھر دیکھ رہے ہیں
وہ حال ہے امید کی امید نہیں ہے
ہم شامِ غریباں کا سفر دیکھ رہے ہیں
گر چہ ہے یقیں پھر بھی عجب حال ہے دل کا
موسیٰ ہیں کہ افعالِ خضر دیکھ رہے ہیں
کچھ ایسے مناظر بھی نظر میں ہیں جو ارشد
دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ہیں
==ارشد رشید
الف عین — جون 6، 2023 12:33 صبح
ماشاء اللہ، اتنی اچھی شاعری کرتے ہیں! مگر کءا اب تک یہ اکلوتی غزل ہے؟
ارشد رشید — جون 6، 2023 1:49 صبح
ماشاء اللہ، اتنی اچھی شاعری کرتے ہیں! مگر کءا اب تک یہ اکلوتی غزل ہے؟
نہیں سر یہ اکلوتی نہیں ہے مگر سوچ لیں کسی شاعر کو چھیڑنا نہیں چاہیئے کہ وہ اور سنائے :)
پسندیدگی کا شکریہ
خورشیداحمدخورشید — جون 6، 2023 9:42 صبح
ماشاءاللہ سر! ڈھیروں داد!
شکیل احمد خان23 — جون 6، 2023 10:53 صبح
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا اثر دیکھ رہے ہیں
کاندھوں پہ نہیں زانو پہ سر دیکھ رہے ہیں
مد ہم سے ہوے اس کے خط و خال خود اس میں
یا ہم اسے با دیدہِ تر دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک داد ہی داد
دُزدیدہ نگاہی سے سہی پر سرِ محفل
ہم دیکھ رہے ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہاں اک ذرا اختلاف ۔۔۔ہم دیکھ رہے ہیں وہ اِدھر دیکھ رہے ہیں یعنی آپ کو مگر اِدھر تو اور بھی
کچھ ہوسکتا ہے ممکن ہے وہ اُسے دیکھ رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہاں اگر ہم دیکھ رہے ہیں وہ کدھر دیکھ رہے ہیں کردیں تو مطلب یہ ہوگا کہ میری نگاہیں اُن کی نگاہوں
کا تعاقب کررہی ہیں اور یہ تعاقب ایک تعلقِ خاص کا غمازہے اور اِس میں بات گھوم کر آپ کے مفہوم کو بھی پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک خاصا غیر مقبول گانا شاید آپ کی سماعت سے گزرا ہو:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جدھر دیکھ رہے ہیں سب اُدھر دیکھ رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم تو بس دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
منزل کا پتہ بھی ہے تو رستہ بھی ہے معلوم
پھر لوگ خدا جانے کدھر دیکھ رہے ہیں
وہ حال ہے امید کی امید نہیں ہے
ہم شامِ غریباں کا سفر دیکھ رہے ہیں
گر چہ ہے یقیں پھر بھی عجب حال ہے دل کا
موسیٰ ہیں کہ افعالِ خضر دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک پھر داد ہی داد!
کچھ ایسے مناظر بھی نظر میں ہیں جو ارشد
دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔واہ!
ارشد رشید — جون 6، 2023 2:21 شام
بہت شکریہ جناب غزل کی پسندیدگی کا -
بس اتنا ہی کہوں گا کہ اِدھر یا کدھر دونوں ہی استعمال ہو سکتے تھے - کدھر سے بات اور کدھر جاتی مگر جو میں کہنا چاہ رہا تھا وہ بات اِدھر کہنے ہی سے آتی
شکریہ -
محمداحمد — جون 6، 2023 4:02 شام
بہت خوب محترم!
عمدہ غزل ہے۔ ڈھیروں داد قبول کیجئے ۔
صریر — جون 6، 2023 4:28 شام
بہت عمدہ سر!
خوبصورت اشعار ہیں ۔👍💐
صریر — جون 6، 2023 4:58 شام
دُزدیدہ نگاہی سے سہی پر سرِ محفل
ہم دیکھ رہے ہیں وہ ادھر دیکھ رہے
یہ شعر بہت بھایا، لیکن 'دُزدیدہ نگاہی ' کی ترکیب کی وجہ سے، دوسرے مصرعے کے مقابلے میں پہلا مصرع زیادہ بھاری محسوس ہو رہا ہے۔
کچھ ایسے مناظر بھی نظر میں ہیں جو ارشد
دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ہیں
یہ شعر تو دل میں اتر گیا!🥺
یہاں ایک استفسار مطلوب ہے، شاعر کا تخاطب اگر خود سے ہو، تو کیا فعل میں جمع کا صیغہ آئے گا، یا پھر واحد کا؟ کیا کسی کو یا اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے، 'اے' یا 'او' وغیرہ لانا ضروری ہے، یا اختیاری؟ خاص کر کے خدا کو مخاطب کرتے وقت ۔
مثال کے طور پر میں نے یہ شعر (میری نظر میں😅)کہا :
"تو نے بنائی دنیا،‌مگر کس لئے خدا؟
بندے تو سب، بتوں کی عبادت میں لگ گئے"
خدا سے تخاطب اور سوال ہے، لیکن بنا 'اے'، 'یا' وغیرہ کے۔
ارشد رشید — جون 6، 2023 9:51 شام
جی سر خود کو آپ یا تم یا ہم سے مخاطب کرنا شاعر کی مرضی ہے کہ وہ بات کو کس طرح کہنا چاہ رہا ہے
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
شاعر خود کو اے کہہ کر بھی مخاطب کر سکتا ہے
تری باتوں نے تو اے مصحفی جی کو جلا ڈالا
خدا کے واسطے چپ رہ یہ کیا آتش زبانی ہے
آپ کے مصرعے - تو نے بنائی دنیا،‌مگر کس لئے خدا؟
میں اے نہیں آئیگا کیونکہ آپ پہلے ہی تو کہہ کر اس سے مخاطب ہو چکے ہیں
ارشد رشید — جون 6، 2023 9:55 شام
آپ تمام احباب کا بہت بہت شکریہ - ذرہ نوازی ہے آپ کی -
عرفان علوی — جون 7، 2023 1:26 صبح
غزل
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا اثر دیکھ رہے ہیں
کاندھوں پہ نہیں زانو پہ سر دیکھ رہے ہیں
مد ہم سے ہوے اس کے خط و خال خود اس میں
یا ہم اسے با دیدہِ تر دیکھ رہے ہیں
دُزدیدہ نگاہی سے سہی پر سرِ محفل
ہم دیکھ رہے ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
منزل کا پتہ بھی ہے تو رستہ بھی ہے معلوم
پھر لوگ خدا جانے کدھر دیکھ رہے ہیں
وہ حال ہے امید کی امید نہیں ہے
ہم شامِ غریباں کا سفر دیکھ رہے ہیں
گر چہ ہے یقیں پھر بھی عجب حال ہے دل کا
موسیٰ ہیں کہ افعالِ خضر دیکھ رہے ہیں
کچھ ایسے مناظر بھی نظر میں ہیں جو ارشد
دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ہیں
==ارشد رشید
ارشد صاحب ، اچھی غزل ہے . داد حاضر ہے .
ارشد رشید — جون 7، 2023 2:58 صبح
ارشد صاحب ، اچھی غزل ہے . داد حاضر ہے .
عنایت آپ کی
شکیل احمد خان23 — جون 7، 2023 3:33 صبح
داغؔ کی زمین میں ایک غزل۔۔۔۔۔

حضرتِ داغ بھی اگر سُنتے
۔۔۔۔۔۔ہو کے بے اِختیار سر دھنتے
ظہیراحمدظہیر — جون 8، 2023 4:23 شام
واہ! بہت خوب! اچھے اشعار ہیں قادری صاحب!
بہت داد آپ کے لیے! امید ہے کہ آپ گاہے بگاہے اپنے کلام سے نوازتے رہیں گے ۔
ارشد رشید — جون 8، 2023 6:18 شام
جناب ظہیر صاحب ابھی کچھ دن قبل اسی سائٹ پر آپ کی شاعری پڑھی - کسی نہ کسی طرح اس تک پہنچ ہی گیا تھا :)
جنا ب ابھی تو میں اسکا لطف ہی اٹھا رہا ہوں بعد میں اسپر اپنی ناچیز رائے پیش کروں گا -
آپ کی شاعری سے تو میرا موازنہ ہی نہیں - آپ نے میری غزل کو پسند کیا یہی میرے لیے اعزاز کی بات ہے
میں مزید اپنی شاعری بھی پوسٹ کروں گا - شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%A7%D8%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84.119588/