دبیز ہوتی ہوئی اک خفا خفا سی ہنسی

سید علی رضوی — اکتوبر 22، 2020 2:23 شام
دبیز ہوتی ہوئی اک خفا خفا سی ہنسی
فراق کرتے ہوئے چاند پہ ذرا سی ہنسی
مجھے بجانب وحشت بلا رہیں ہیں پھر
وہ رہ نما سی نگاہیں وہ راستہ سی ہنسی
ٹھہرتے وقت میں طوفان لانے لگتی ہے
شدید حبس میں چلتی ہوئی ہوا سی ہنسی
ہمارے نام پہ ہونا وہ رونقوں کا ظہور
ہمیں پکارتے لب پر وہ خوش نما سی ہنسی
غریب شخص کو دو پل امیر کرتی ہوئی
حیا میں لپٹی ہوئی تھی کسی عطا سی ہنسی
ہمارے عشق میں امرت کو گھولنے والی
دریدہ جسم پہ لگتی ہوئی دوا سی ہنسی
تھکن کے مارے ہوئے شخص کی تھی اک اجرت
بس اک ثواب پہ ستر گنا جزا سی ہنسی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%B2-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DA%A9-%D8%AE%D9%81%D8%A7-%D8%AE%D9%81%D8%A7-%D8%B3%DB%8C-%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C.113626/