در جو کُھلتا ہے تو دیوار نظر آتی ہے

نوید ناظم — مئی 25، 2022 9:05 صبح
آنکھ اِس طرح سے بیزار نظر آتی ہے
در جو کُھلتا ہے تو دیوار نظر آتی ہے
تیرے جانے سے یہی فرق پڑا ہے ہم کو
زندگی اور بھی دُشوار نظر آتی ہے
کچھ تو معلوم ہے مجھ کو بھی وفا کا، بس کر
یہ اگر ہو تو مِرے یار، نظر آتی ہے!
ایک چہرہ کہ جسے بھول رہا ہوں اب تک
ایک صورت کہ جو ہر بار نظر آتی ہے
مجھ کو اچھا نہ کر اتنا تو بتا چارہ گر
کیا تُجھے حسرتِ بیمار نظر آتی ہے؟
یہ محبت مِری جاں خلقتِ کوفہ ہے جو
صرف خط میں ہی طرف دار نظر آتی ہے
جیت سکتا ہوں نوید اُس سے میں اب بھی لیکن
اُس سے جیتوں تو مجھے ہار نظر آتی ہے
(نوید ناظم وٹو)
محمد عبدالرؤوف — مئی 25، 2022 9:15 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔ کمال
ہر شعر خوب ہے نوید بھائی، ڈھیروں داد۔۔ سلامت رہیں
محمداحمد — مئی 25، 2022 10:05 صبح
واہ واہ واہ
عمدہ غزل ہے نوید بھائی!
داد قبول کیجے۔
نوید ناظم — مئی 25، 2022 3:32 شام
واہ واہ واہ۔۔۔ کمال
ہر شعر خوب ہے نوید بھائی، ڈھیروں داد۔۔ سلامت رہیں
یہ آپ کی خوش ذوقی، بہت شکریہ ۔۔۔سلامت باشید!!
نوید ناظم — مئی 25، 2022 3:34 شام
واہ واہ واہ
عمدہ غزل ہے نوید بھائی!
داد قبول کیجے۔
حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ احمد بھائی۔
ہمیشہ سلامت رہیں!!
گُلِ یاسمیں — مئی 25، 2022 3:39 شام
بہت زبردست۔
سلامت رہئیے ۔
نیرنگ خیال — مئی 25، 2022 3:42 شام
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔۔۔ لاجواب
نوید ناظم — مئی 26، 2022 7:22 صبح
بہت زبردست۔
سلامت رہئیے ۔
بڑی نوازش!
نوید ناظم — مئی 26، 2022 7:24 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔۔۔ لاجواب
یہ آپ کا ذوق۔۔۔ متشکرم!🙂
سید اسد معروف — مئی 27، 2022 2:06 شام
بہت خوب۔
نوید ناظم — مئی 28، 2022 1:45 شام
بہت شکریہ!
ایس ایس ساگر — مئی 28، 2022 2:26 شام
بہت خوب نوید ناظم بھائی۔
لاجواب۔ خوبصورت اشعار۔
ڈھیروں داد۔ اللہ کرے زورقلم اور زیادہ۔ آمین۔
عرفان علوی — مئی 30، 2022 1:19 صبح
آنکھ اِس طرح سے بیزار نظر آتی ہے
در جو کُھلتا ہے تو دیوار نظر آتی ہے
تیرے جانے سے یہی فرق پڑا ہے ہم کو
زندگی اور بھی دُشوار نظر آتی ہے
کچھ تو معلوم ہے مجھ کو بھی وفا کا، بس کر
یہ اگر ہو تو مِرے یار، نظر آتی ہے!
ایک چہرہ کہ جسے بھول رہا ہوں اب تک
ایک صورت کہ جو ہر بار نظر آتی ہے
مجھ کو اچھا نہ کر اتنا تو بتا چارہ گر
کیا تُجھے حسرتِ بیمار نظر آتی ہے؟
یہ محبت مِری جاں خلقتِ کوفہ ہے جو
صرف خط میں ہی طرف دار نظر آتی ہے
جیت سکتا ہوں نوید اُس سے میں اب بھی لیکن
اُس سے جیتوں تو مجھے ہار نظر آتی ہے
(نوید ناظم وٹو)
عمدہ غزل ہے ، نوید صاحب ! داد قبول فرمائیے .
نوید ناظم — مئی 31، 2022 9:08 صبح
عمدہ غزل ہے ، نوید صاحب ! داد قبول فرمائیے .
آپ کے ذوق کا ممنون ہوں۔ شکریہ۔
محمد شکیل خورشید — جون 12، 2022 8:25 شام
عمدہ غزل ہے ڈاد قبول فرمایئے
نوید ناظم — جون 13، 2022 6:22 صبح
عمدہ غزل ہے ڈاد قبول فرمایئے
شکیل صاحب حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ!
نوید احمَد — جون 13، 2022 3:05 شام
بہت عمدہ، ڈھیروں داد اور دعائیں۔
نوید ناظم — جون 13، 2022 5:21 شام
بہت عمدہ، ڈھیروں داد اور دعائیں۔
بڑی نوازش!!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1-%D8%AC%D9%88-%DA%A9%D9%8F%DA%BE%D9%84%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AA%D9%88-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%A2%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92.118483/