دراصل جِس کا عکس ہے یہ ساری کائنات

ش زاد — جون 17، 2012 2:41 شام
اُس نے اُٹھا کے پھینک دیا چاک سے پرے
کچھ بن رہا ہوں اور ہی اب خاک سے پرے
کچھ اور بات ہے سرِ اوراقِ زندگی
اور بات کوئی اور ہے اوراق سے پرے
اِک روز میں بھی تو تُجھے حیرت زدہ کروں
اِک روز لے کے جا مُجھے اِدراک سے پرے
دراصل جِس کا عکس ہے یہ ساری کائنات
رکھا ہوا ہے آئینہ افلاک سے پرے
دِل مُبتِلا ہے عارضہءلا علاج میں
پر ایک ترا لمس ہے تریاق سے پرے
کب سے زمیں اُٹھائے ہوئے چل رہا ہوں میں
لیکن ابھی گیا نہیں آفاق سے پرے
ش زاد
الف نظامی — جون 17، 2012 2:52 شام
دراصل جِس کا عکس ہے یہ ساری کائنات
رکھا ہوا ہے آئینہ افلاک سے پرے
بہت خوب!
الف عین — جون 17، 2012 4:57 شام
اچھی غزل ہے ش زاد، لیکن یہ قاف اور کاف کے قوافی پسند نہیں آئے، صوتی قوافی بھی تو نہیں!!
نایاب — جون 17، 2012 5:09 شام
بہت خوب محترم ش زاد صاحب
اِک روز میں بھی تو تُجھے حیرت زدہ کروں
اِک روز لے کے جا مُجھے اِدراک سے پرے
محمد وارث — جون 18، 2012 6:15 صبح
خوب غزل ہے جناب اور میں اعجاز صاحب سے متفق ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1%D8%A7%D8%B5%D9%84-%D8%AC%D9%90%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%DA%A9%D8%B3-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA.52116/