دعا

F@rzana — اپریل 29، 2006 12:06 صبح
دعا
بارش کيسی تيز ہوئی ہے
آدھی رات کا سناٹا ہے
آنکھ اداسی ميں ڈوبی ہے
خواب بھی چھپ چھپ کر تکتے ہيں
خوشبو کچہ مانوس سی ہے
اور دل بکھرا بکھرا سا ھے
شيشے کی ان ديواروں کے پار
افق ہے اور دعا
جب تک لوٹ کے آئے گی
شايد ميں ہو جاؤں راکھ۔۔۔۔
۔
۔
۔نیناں​
الف عین — اپریل 29، 2006 4:32 صبح
بہت خوب۔ ماشاءاللہ اب پتی چلا کہ یہ نیناں ہماری فرزانہ صاحبہ ہی ہیں۔ چلو، جلدی سے کم از کم پانچ تخلیقات مجھے ای میل کر دو سمت کے لئے۔
aijazubaid at gawab dot com OR aijazubaid at gmail
F@rzana — اپریل 29، 2006 8:19 شام
اوئی اللہ،،،،،،،،،،،،،،،
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی :?
قیصرانی — اپریل 29، 2006 9:11 شام
فرزانہ بی بی۔ اچھی کاوش ہے۔ مگر میں اچھا ادبی بندہ نہیں‌ہوں کہ دیگ کا ایک چاول چکھ کر رائے دے دوں۔ مزید کلام عطا فرمائیے گا۔
پھر تفصیلی رائے دوں گا۔ ویسے اتنا اچھا کلام سنانا اچھی بات تو ہے ہی۔ انتظار رہے گا۔
قیصرانی
دوست — اپریل 29، 2006 9:25 شام
زبردست۔
کچھ اور بھی عطا کیجیے نا۔
F@rzana — اپریل 29، 2006 9:31 شام
قیصرانی نے کہا:
فرزانہ بی بی۔ اچھی کاوش ہے۔ مگر میں اچھا ادبی بندہ نہیں‌ہوں کہ دیگ کا ایک چاول چکھ کر رائے دے دوں۔ مزید کلام عطا فرمائیے گا۔
پھر تفصیلی رائے دوں گا۔ ویسے اتنا اچھا کلام سنانا اچھی بات تو ہے ہی۔ انتظار رہے گا۔
قیصرانی

تو سیدھی طرح کہہ دیجئے نظم اچھی ہے، پھر چاولوں اور دیگوں کا قصہ چھیڑ دیا ، کوامخواہ ہی آپ کے “شیف“ ہونے کی تصدیق ہوتی جارہی ہے :lol: :lol: :lol:
F@rzana — اپریل 29، 2006 9:34 شام
دوست نے کہا:
زبردست۔
کچھ اور بھی عطا کیجیے نا۔

پسندیدگی کا شکریہ
مجھے جدید شاعری کا چسکا ہے، جبکہ یہاں ماشاء اللہ استادوں کو پڑھنے والے باذوق محفل جماتے ہیں، استادوں کومیں بھی پڑھتی ہوں، بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے لیکن نئے ڈکشن میں لکھنا اور غیر شاعرانہ الفاظ کو شاعرانہ طور پر برتنے کا لطف کچھ اور ہی ہے۔
قیصرانی — اپریل 29، 2006 9:43 شام
F@rzana نے کہا:
قیصرانی نے کہا:
فرزانہ بی بی۔ اچھی کاوش ہے۔ مگر میں اچھا ادبی بندہ نہیں‌ہوں کہ دیگ کا ایک چاول چکھ کر رائے دے دوں۔ مزید کلام عطا فرمائیے گا۔
پھر تفصیلی رائے دوں گا۔ ویسے اتنا اچھا کلام سنانا اچھی بات تو ہے ہی۔ انتظار رہے گا۔
قیصرانی

تو سیدھی طرح کہہ دیجئے نظم اچھی ہے، پھر چاولوں اور دیگوں کا قصہ چھیڑ دیا ، کوامخواہ ہی آپ کے “شیف“ ہونے کی تصدیق ہوتی جارہی ہے :lol: :lol: :lol:
اب تو مزید عطاکر ہی دیں۔
قیصرانی
الف عین — اپریل 30، 2006 9:26 صبح
میری بات سنی ہے یا ابھی تک سرخ پھولوں کے جنگل میں گھوم رہی ہو؟ اور وہ نظم تم نے ڈیجیٹل لائبریری میں پوسٹ کی ہے۔ کیا اپنا مجموعہ ای پبلش کر رہی ہو؟ کیا یہ دونوں نظمیں سمت کے لئے نتخب کرنے کی اجازت ہے۔ یا بزرگ سمجھو تو حکم دوں؟
تیشہ — اپریل 30، 2006 12:55 شام
F@rzana نے کہا:
دعا
بارش کيسی تيز ہوئی ہے
آدھی رات کا سناٹا ہے
آنکھ اداسی ميں ڈوبی ہے
خواب بھی چھپ چھپ کر تکتے ہيں
خوشبو کچہ مانوس سی ہے
اور دل بکھرا بکھرا سا ھے
شيشے کی ان ديواروں کے پار
افق ہے اور دعا
جب تک لوٹ کے آئے گی
شايد ميں ہو جاؤں راکھ۔۔۔۔
۔
۔
۔نیناں​

واہ، فرزانہ ، بہت خوب لکھتی ہیں ، :p :)
تیشہ — اپریل 30، 2006 12:57 شام
F@rzana نے کہا:
اوئی اللہ،،،،،،،،،،،،،،،
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی :?

مطلب ، جہاں سے بھی اڑی صیح اڑی نہ :)
F@rzana — مئی 2، 2006 1:28 صبح
محترم آپ کا حکم سر آنکھوں پر، جو جی چاہے کیجئے آپ کو اختیار ہے۔
میں نے واقعی آپ کا پیغام نہیں دیکھا تھا معذرت خواہ ہوں، سرخ پھولوں کے جنگل سے نکلنا اب میرے بس کی بات نہیں رہی۔
اعجاز اختر نے کہا:
میری بات سنی ہے یا ابھی تک سرخ پھولوں کے جنگل میں گھوم رہی ہو؟ اور وہ نظم تم نے ڈیجیٹل لائبریری میں پوسٹ کی ہے۔ کیا اپنا مجموعہ ای پبلش کر رہی ہو؟ کیا یہ دونوں نظمیں سمت کے لئے نتخب کرنے کی اجازت ہے۔ یا بزرگ سمجھو تو حکم دوں؟
F@rzana — مئی 2، 2006 1:29 صبح
اڑی بھی نہ تھی کہ پر گن لیئے گئے۔۔۔
بوچھی نے کہا:
F@rzana نے کہا:
اوئی اللہ،،،،،،،،،،،،،،،
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی :?

مطلب ، جہاں سے بھی اڑی صیح اڑی نہ :)
:lol: :lol: :lol:
قیصرانی — مئی 2، 2006 8:38 شام
F@rzana نے کہا:
اڑی بھی نہ تھی کہ پر گن لیئے گئے۔۔۔
بوچھی نے کہا:
F@rzana نے کہا:
اوئی اللہ،،،،،،،،،،،،،،،
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی :?

مطلب ، جہاں سے بھی اڑی صیح اڑی نہ :)
:lol: :lol: :lol:
ارے، پر گننا کونسی مشکل بات ہے۔ دو ہی تو ہوتے ہیں۔
قیصرانی
F@rzana — جون 2، 2006 1:39 شام
آپ کو فقط دو پر نظر آتے ہیں؟
زندگی کو دیکھئے یہ بھی اس پرندے کی طرح ہےجو مشکلات میں ننھی سی چڑیا کی طرح ٹھٹھر کر سہم کر اپنے پروں کو سمیٹ لیتی ہے،
اپنے دو پروں کی اڑان میں بار بار گر جاتی ہے حتی کہ اس کے بقیہ پر اگ کر اسے لمبی اور بھرپور اڑانوں کے قابل نہ بنادیں،
اونچے پیڑوں کی شاخوں سے دو پر لئے اترنا آسان ہوتا ہے لیکن جن کے دل میں پرواز کا سودا سمایا ہو وہ دو پروں کے اگتے ہی بقیہ پروں کی نشو ونما کے لیئے جدوجہد کرتے ہیں قیصرانی :)
محب علوی — جون 2، 2006 1:46 شام
قیصرانی کو کیا بتا رہی ہو ، اس کے پر نہیں نکلنے ( ہاتھی ہے وہ بھول کیوں جاتی ہو ) :wink:
ویسے یہ پوسٹ پڑھ کر تو میرے پر نکل آئے ہیں اور مسلسل پھڑپھڑا رہے ہیں ، ڈر ہے کہیں اڑنے نہ لگ جاؤں۔ ٹھنڈ اتنی زیادہ ہے کہ ٹھٹر کر کہیں گر جاؤں گا اور نئے پرندے تو پھر اٹھ بھی نہیں پاتے :lol:
F@rzana — جون 2، 2006 1:53 شام
یہ مت بھولو کہ زیادہ پھڑپھڑانے ولاے پرندوں کے پر کاٹ بھی دیئے جاتے ہیں :wink:
رہے بے بی ہاتھی تو انہی کی مدد کی جارہی ہے بابا ہاتھی بننے کے لئے :roll:
محب علوی — جون 2، 2006 1:59 شام
میرے پروں کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہو ، ابھی تو تازہ تازہ نکلے ہیں کچھ دیر پھڑ پھڑا لیں تو تمہارا کیا جاتا ہے ، ویسے بال و پر کاٹ کر کہاں قید کرنے کا ارادہ ہے۔
بے بی ہاتھی کو بابا نہ بناؤ ، ابھی تو اس کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں ، سونڈ میں بھر بھر کے اپنے اوپر پانی پھینک لینے دو اسے :wink:
قیصرانی — جون 2، 2006 3:13 شام
مجھے تو آپ کی بات سمجھ نہیں آئی، ایک دایاں‌پر، ایک بایاں پر۔ اب اس کے بعد کتنے پر پیدا ہوتے ہیں، یہ مجھے تو نہیں علم، اگر ہو سکے میرے ناقص علم میں اضافہ فرما دیں۔ :lol:
بےبی ہاتھی
زیک — جون 2، 2006 3:20 شام
قیصرانی آپ سمجھے نہیں۔ محب پینگون (penguin) کی طرح کے بہت سے پر چاہتے ہیں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B9%D8%A7.2043/