سیدہ سارا غزل — ستمبر 30، 2012 8:16 شام
جب کوئی مہر بلب ہوتا ہے
کسی طوفاں کا سبب ہوتا ہے
عشق کی ذات نہ مسلک ہے کوئی
درد بے نام و نسب ہوتا ہے
خامشی اور فزوں ہوتی ہے
دل جو ہنگامہ طلب ہوتا ہے
نشہء شوق میں دل جھومتا ہے
میکدہ خواب طرب ہوتا ہے
ہر نظر جلوہ ء صد مہر حیات
شعلہء غم بھی عجب ہوتا ہے
دل میں شعلہ سا بھڑک اٹھتا ہے
نغمہء عشق غضب ہوتا ہے
ہر گُل ِ زخم نکھر جاتا ہے
دیدنی گریہ ء شب ہوتا ہے
اک نیا روپ نیا رنگ چمن
جلوہ ء صبح میں اب ہوتا ہے
دل میں کھل جاتا ہے میخانہ غزلؔ
شوق جب تشنہء لب ہوتا ہے
سیدہ سارا غزل ہاشمی
عاطف بٹ — ستمبر 30، 2012 8:43 شام
واہ، بہت خوب۔
سیدہ سارا غزل — ستمبر 30، 2012 9:13 شام
شکریہ عاطف بھیا۔ سلامت رہیں
الف عین — اکتوبر 1، 2012 3:56 صبح
اچھی غزل ہے سارا
محمد بلال اعظم — اکتوبر 1، 2012 4:21 صبح
بہت خوب
بہت اچھی غزل ہے۔ واہ
اسامہ جمشید — اکتوبر 1، 2012 4:55 صبح
واہ کیا بات ہے
محمد وسیم مجتبیٰ — اکتوبر 1، 2012 5:23 صبح
ماشااللہ بہت زبردست
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 1، 2012 12:16 شام
پیارے بابا جانی سر عبید حوصلہ افزائی کا بیحد شکریہ۔ سلامت رہیں
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 1، 2012 12:16 شام
بہت خوب
بہت اچھی غزل ہے۔ واہ
شکریہ بلال بھیا۔ سلامتی ہو
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 1، 2012 12:17 شام
شکریہ جمشید صاحب۔ شکرگزار ہوں
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 1، 2012 12:18 شام
ممنون ہوں وسیم مجتبیٰ صاحب۔ سلامت رہیں
اسد قریشی — اکتوبر 4، 2012 7:48 صبح
ہر گُل ِ زخم نکھر جاتا ہے
دیدنی گریہ ء شب ہوتا ہے
آہا ہا ہا! کیا بات ہے، بہت عمدہ!
قرۃالعین اعوان — اکتوبر 4، 2012 8:24 صبح
واہ!
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 20، 2012 8:48 شام
ہر گُل ِ زخم نکھر جاتا ہے
دیدنی گریہ ء شب ہوتا ہے
آہا ہا ہا! کیا بات ہے، بہت عمدہ!
بہت شکریہ سر۔ سلامتی ہو
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 20، 2012 8:49 شام
شکریہ بہنا، آپ کو پسند آ گئی تو بس سمجھو میں پاس ہو گئی

قرۃالعین اعوان — اکتوبر 20، 2012 8:49 شام
شکریہ بہنا، آپ کو پسند آ گئی تو بس سمجھو میں پاس ہو گئی

محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 22، 2012 8:14 صبح
واہ۔ بہت عمدہ غزل ہے۔ داد قبول کیجیے۔
احمد شاکر — اکتوبر 23، 2012 12:12 صبح
بہت خوب